اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، 100 انڈیکس میں 900 پوائنٹس کا اضافہ
- کاروباری اتار چڑھاؤ کے بعد انڈیکس کی 183,000 کی سطح عبور
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو اتار چڑھاؤ کے باوجود مجموعی طور پر مثبت رجحان رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 900 پوائنٹس کے اضافے پر بند ہوا۔
کاروبار کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا اور ابتدائی اوقات میں انڈیکس میں تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی، تاہم دوپہر سے قبل ہی مارکیٹ نے بھرپور واپسی کی۔ دن کے وسط میں تیزی کے اس رجحان میں مزید اضافہ ہوا اور اہم کمپنیوں کے حصص میں خریداری کی دلچسپی بڑھنے سے انڈیکس 183,801.70 کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔
کاروبار کے دوسرے حصے میں منافع خوری (پرافٹ ٹیکنگ) کے دباؤ کی وجہ سے انڈیکس میں بتدریج کمی آئی لیکن آخری لمحات میں ریکوری نے نقصانات کو کم کرنے میں مدد دی۔ اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 896.25 پوائنٹس یا 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 183,049.80 پر بند ہوا۔
سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ حبکو، ماری ، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل ، پی ایس او ، ایم سی بی ، میزان بینک اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
پاکستان اور انڈونیشیا نے منگل کو اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنے موجودہ ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کو 2027 تک جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کریں گے جو دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج معمولی کمی کے ساتھ بند ہوئی کیونکہ مسلسل فروخت کے دباؤ نے کھاد کے شعبے میں محدود اضافے کے اثرات کو زائل کر دیا، جس سے سرمایہ کاروں کا رجحان دباؤ کا شکار رہا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 186.83 پوائنٹس یا 0.10 فیصد کی کمی سے 182,153.55 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بدھ کو امریکہ میں ریٹیل سیلز کے توقع سے کم اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد بانڈز کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی اور اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری کی رفتار سست پڑگئی۔ دوسری جانب جاپانی ین کی قدر میں اضافے کا سلسلہ برقرار ہے جو ممکنہ طور پر جاپان کے انتخابات کے بعد سرمایہ کاروں کی سوچ میں تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے۔
جاپان میں تعطیل کے باعث ایشیا میں تجارتی سرگرمیاں محدود رہیں جبکہ ہانگ کانگ اور چین کی مارکیٹوں کا آغاز بغیر کسی خاص تبدیلی (فلیٹ) کے ہوا۔
سونے کی قیمت دوبارہ 5 ہزار ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی اور کیش مارکیٹ بند ہونے کے باوجود ٹریژری فیوچرز میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بینچ مارک 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں راتوں رات تقریباً چھ بیسس پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی اور یہ ایک ماہ کی کم ترین سطح 4.14 فیصد کو چھو گئی۔ یہ کمی ان اعدادوشمار کے بعد آئی جن سے ظاہر ہوا کہ دسمبر میں امریکہ کی بنیادی ریٹیل سیلز میں 0.1 فیصد کی گراوٹ ہوئی جبکہ نومبر اور اکتوبر کے اعدادوشمار میں بھی کمی کی بنیاد پر نظرثانی کی گئی تھی۔