ڈالر نومبر کے بعد مضبوط ترین ہفتے کی راہ پر، انتخابات سے قبل ین مستحکم
- عالمی منڈیوں میں حصص کی شدید فروخت
امریکی ڈالر جمعہ کے روز تقریباً دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا اور رواں ہفتے نومبر کے بعد اپنی مضبوط ترین ہفتہ وار کارکردگی کی جانب گامزن دکھائی دیتا ہے۔ عالمی منڈیوں میں حصص کی شدید فروخت، جو مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے اخراجات سے متعلق خدشات کے باعث دیکھنے میں آئی، نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا، جبکہ جاپانی ین اتوار کو ہونے والے قومی انتخابات سے قبل قدرے مضبوط ہوا۔
گزشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیون وارش کو فیڈرل ریزرو کا اگلا چیئرمین نامزد کیے جانے کے بعد ڈالر کو تقویت ملی، کیونکہ مارکیٹوں کو توقع ہے کہ وہ شرح سود میں تیزی سے کمی کے حامی نہیں ہوں گے، جس سے مرکزی بینک کی خودمختاری سے متعلق خدشات کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔
ٹیکنالوجی شیئرز میں اس ہفتے تیز مندی اس تشویش کے باعث سامنے آئی کہ مصنوعی ذہانت پر ہونے والے بھاری اخراجات اور تیزی سے ترقی کرتی اے آئی ٹیکنالوجیز مختلف شعبوں کو درہم برہم کر سکتی ہیں۔ اس رسک سے گریز کے رجحان نے ڈالر کو سہارا دیا، حالانکہ امریکی ٹریژری بانڈز کے شرح منافع میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ معاشی اعدادوشمار نے ملازمتوں کی منڈی میں متوقع سے کمزور صورتحال کی نشاندہی کی۔
ڈالر انڈیکس 97.961 پر رہا، جو 23 جنوری کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے، اور ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً ایک فیصد اضافے کی راہ پر ہے۔ آئی این جی کے ماہرین معاشیات کے مطابق بھرتیوں کی رفتار میں سست روی اس بات کا اشارہ ہے کہ فیڈ نے جنوری کے اجلاس میں روزگار سے متعلق خطرات کو کم اہمیت دی ہو سکتی ہے۔
یورو 1.1784 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا، جب کہ یورپی مرکزی بینک نے شرح سود برقرار رکھی۔ پاؤنڈ 1.3520 ڈالر پر آ گیا، جو گزشتہ سیشن میں تقریباً 1 فیصد گرا تھا۔ جاپانی ین 156.74 پر قدرے مضبوط رہا، تاہم انتخابات کے باعث سرمایہ کار بدستور بے چین ہیں۔
دوسری جانب سونا اور چاندی میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، چاندی 3 فیصد گر کر ہفتہ وار بنیاد پر 18 فیصد کمی کی جانب بڑھ گئی۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن بھی دباؤ میں رہا اور 63,273 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جو اکتوبر 2024 کے بعد کم ترین سطحوں کے قریب ہے۔