پاکستان

ازبک صدر کا جی آئی ڈی ایس کا دورہ، پاکستان کے ساتھ دفاعی اور صنعتی تعاون کا جائزہ

  • فیلڈ مارشل نے ازبک صدر کا استقبال کیا اور تنصیبات کے دورے کے دوران وفد کے ہمراہ رہے
شائع February 5, 2026 اپ ڈیٹ February 5, 2026 09:20pm

جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرضی یوئیف نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران جمعرات کو اپنے وفد کے اعلیٰ ارکان کے ہمراہ گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز(جی آئی ڈی ایس) کا سرکاری دورہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ازبک صدر کا استقبال کیا اور ادارے کے معائنے کے دوران وفد کے ہمراہ رہے۔

دورے کے دوران صدر مرضی یوئیف کوجی آئی ڈی ایس کے وسیع پورٹ فولیو بشمول جدید دفاعی حل، صنعتی صلاحیتوں اور تکنیکی ایجادات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وفد نے اہم حصوں کا دورہ کیا اور مختلف دفاعی مصنوعات کا مشاہدہ کیا، جو دفاعی پیداوار اور صنعتی ترقی کے شعبے میں پاکستان کی خود انحصاری اور پیش رفت کو ظاہر کرتی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ دفاع، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان اور ازبکستان کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں فریقین نے شراکت داری کو وسعت دینے، علم و تجربے کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کے مواقع تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

اس دورے کو دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور پاکستان و ازبکستان کے درمیان تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔

قبل ازیں ازبکستان کے صدر شوکت مرضی یوئیف جمعرات کو دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔نور خان ایئربیس پر آمد کے موقع پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ازبک صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی موجود تھے۔

صدر مرضی یوئیف اعلی ٰ سطح کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں جس میں سینئر کابینہ وزراء اور ممتاز کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ اس دورے کو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان معاشی اور فیصلہ کن شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ہو رہا ہے اور اس کا مقصد تجارت، علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

استقبالیہ تقریب میں روایتی پاکستانی لباس پہنے دو بچوں نے معزز مہمان کو گلدستے پیش کیے، جبکہ پس منظر میں 21 توپوں کی سلامی سے ازبک صدر کی آمد کا اعلان کیا گیا۔ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی اور تینوں مسلح افواج کے بینڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ روایتی ملبوسات میں ملبوس بچے پاکستان اور ازبکستان کے جھنڈے لہرا کر مہمان کا استقبال کر رہے تھے۔

اپنے قیام کے دوران ازبک صدر، صدر زرداری سے ملاقات کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے اور پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کریں گے۔

مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی تبادلوں اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔

شوکت مرضی یوئیف کا پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہے جو پاک ازبک دوطرفہ تعلقات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور دونوں برادر ممالک کے درمیان مشترکہ تاریخ، عقیدے اور وسطی و جنوبی ایشیا میں امن و خوشحالی کی مشترکہ خواہشات پر مبنی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔