مارکٹس

امریکہ، ایران مذاکرات پر اتفاق، سپلائی خدشات کم ہونے سے تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد کمی

  • برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمتیں 1.44 ڈالر یا 2.07 فیصد کی کمی سے 68.02 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئیں
شائع February 5, 2026 اپ ڈیٹ February 5, 2026 12:06pm

عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ گراوٹ امریکہ اور ایران کے درمیان جمعہ کو عمان میں مذاکرات پر اتفاق کے بعد سامنے آئی جس سے ان خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم مشرقِ وسطیٰ جیسے اہم پیداواری خطے سے تیل کی سپلائی کو معطل کرسکتا ہے۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمتیں 1.44 ڈالر یا 2.07 فیصد کی کمی سے 68.02 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئیں۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمتیں بھی 1.34 ڈالر یا 2.06 فیصد کی کمی سے 63.80 ڈالر پر ٹریڈ کررہی ہیں۔

بدھ کو خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا جب ایک میڈیا رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ جمعہ کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔

تاہم دن کے آخری حصے میں دونوں اطراف کے حکام نے واضح کیا کہ جمعہ کو مذاکرات اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے، اگرچہ بات چیت کے لیے طے کیے جانے والے موضوعات پر تاحال اتفاق رائے ہونا باقی ہے۔

انرجی کنسلٹنسی فرم ایکس اینالسٹس کے سی ای او مکیش سہدیو نے کہا کہ جمعہ کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی خبروں پر تیل کی قیمتوں نے جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث بڑھنے والے پریمیم کا کچھ حصہ ختم کردیا ہے۔

تاہم، دونوں فریقین اس بات پر اب بھی ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں کہ ان مذاکرات میں کن موضوعات کو شامل کیا جانا چاہیے۔

ایران مغربی ممالک کے ساتھ اپنے ایٹمی پروگرام، بشمول یورینیم افزودگی، پر بات کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، مشرق وسطیٰ میں اس کی مسلح پراکسی گروپوں کی حمایت اور اپنے عوام کے ساتھ اس کے سلوک کو بھی شامل کیا جائے۔

مکیش سہدیو نے کہا کہ ممکن ہے کہ یہ مذاکرات نئے اختلافات کو جنم دیں اور خطرے کا پریمیم دوبارہ جلد بڑھ جائے۔

موجودہ مذاکرات کے باوجود خدشات ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی ایران پر حملے کی اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنائیں گے، جو کہ اوپیک میں چوتھے سب سے بڑے پیدا کنندہ ملک ہے جس سے تیل سے مالا مال خطے میں وسیع تنازع کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ممکنہ تنازع کی صورت میں ایران کی پیداوار میں رکاوٹ کے علاوہ، خدشات ہیں کہ دیگر خلیجی پیدا کنندگان کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

دنیا کی کل تیل کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ ہرمز کی تنگی کے راستے سے گزرتا ہے جو عمان اور ایران کے درمیان واقع ہے۔

دوسرے اوپیک کے رکن ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق، زیادہ تر اپنے خام تیل کی برآمدات اسی راستے کے ذریعے کرتے ہیں۔