پاکستان

آرمی چیف کا دورہ کوئٹہ، دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم

  • چیف آف آرمی اسٹاف کا کہنا ہے کہ کسی دہشت گرد یا سہولت کار کو نہیں بخشا جائے گا
شائع February 4, 2026 اپ ڈیٹ February 4, 2026 11:23pm

چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز ( سی او اے ایس اینڈ سی ڈی ایف ) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہیں موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور جاری داخلی سیکیورٹی آپریشنز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ یہ بات انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ( آئی ایس پی آر) نے بدھ کے روز بتائی ہے۔

فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق بریفنگ میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کا جائزہ لیا گیا، جنہیں بھارت کی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد قرار دیے گئے گروہ فتنتہ الہندوستان کے انجام دیے جانے والے حملے قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز کے فوری اور بھرپور ردِعمل کا بھی ذکر کیا گیا، جس نے بلوچستان میں امن و ترقی کو خراب کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔

بریفنگ کے دوران ریاستی تحکّم کو مزید مضبوط بنانے اور شہریوں و اہم انفرااسٹرکچر کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ کوئی دہشت گرد یا سہولت کار نہیں بخشا جائے گا اور سب کے ساتھ قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی بہانے سے تشدد اور دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت، جراؑت اور قربانیوں کو سراہا، جنہوں نے ان کے بقول پاکستان مخالف سازشوں کو ناکام بنایا اور قانون و نظم و ضبط قائم رکھا۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ، آرمی چیف نے کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ ) کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور بلوچستان اور پولیس کے زخمی اہلکاروں سے ملاقات کی۔

انہوں نے ان کے بلند حوصلے کو سراہا، ان کی بہادری کی تعریف کی اور ملک کے دفاع میں ان کے ثابت قدم ہونے کو سراہا، جسے آئی ایس پی آر نے غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف قرار دیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قبل ازیں آرمی چیف کی کوئٹہ آمد پر کور کمانڈر کوئٹہ نے ان کا استقبال کیا۔