مارکیٹ کی امریکہ ایران کشیدگی پر نظر، خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ
- برینٹ کروڈ فیوچر 6 سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 66.36 ڈالر فی بیرل پر تھے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو معمولی اضافہ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی کے امکانات کا جائزہ لیتے رہے، جبکہ مضبوط امریکی ڈالر نے قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو محدود رکھا۔
برینٹ کروڈ فیوچر 6 سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 66.36 ڈالر فی بیرل پر تھے۔ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 62.24 ڈالر فی بیرل پر تھا۔
پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سنجیدگی سے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، جسے اوپیک کے رکن ملک کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ جمعہ کو ترکی میں جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کر سکتے ہیں، تاہم ٹرمپ نے خبردار بھی کیا کہ اگر معاہدہ طے نہ پایا تو صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ مضبوط امریکی ڈالر بھی ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونے سے ڈالر میں قیمت رکھنے والی اشیا، خصوصاً خام تیل، دیگر ممالک کے خریداروں کے لیے مہنگی ہو جاتی ہیں، جس سے طلب متاثر ہو سکتی ہے۔
تجارتی محاذ پر بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکہ نے بھارت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت بھارتی مصنوعات پر امریکی ٹیرف کم کیے جائیں گے، جبکہ بھارت روسی تیل کی خریداری کم کرنے اور امریکی سے تیل خریدنے پر آمادہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بھارت روسی تیل کی درآمدات کم کرتا ہے تو عالمی سپلائی کے بہاؤ میں ردوبدل آ سکتا ہے۔
ادھر اوپیک پلس نے مارچ کے لیے تیل کی پیداوار کی سطح برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ گروپ کے چند اہم اراکین پہلے ہی 2025 کے دوران بتدریج پیداوار بڑھانے کے شیڈول پر کاربند ہیں، جس سے عالمی منڈی میں رسد کے حوالے سے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر تیل کی منڈی اس وقت جیوپولیٹیکل صورتحال، کرنسی کی حرکات اور بڑے درآمد کنندگان کی پالیسیوں کے زیر اثر محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ سرمایہ کار آئندہ سفارتی پیش رفت اور طلب و رسد کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔