مارکٹس

امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کے بعد خام تیل کی قیمتیں گرگئیں

  • برینٹ کرُڈ فیوچرز 2 ڈالر یا 2.9 فیصد کمی کے ساتھ 67.28 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے
شائع February 2, 2026 اپ ڈیٹ February 2, 2026 09:33am

تیل کی قیمتوں میں پیر کو تین فیصد کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور واشنگٹن کے درمیان سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں، جو اوپیک کے رکن کے ساتھ کشیدگی میں کمی کا اشارہ ہے۔ گزشتہ ہفتے فوجی کارروائی کے خدشات کے باعث قیمتیں کئی ماہ کی بلند سطح پر پہنچ گئی تھیں۔

برینٹ کرُڈ فیوچرز 2 ڈالر یا 2.9 فیصد کمی کے ساتھ 67.28 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 2 ڈالر یا 3.1 فیصد کمی کے ساتھ 63.17 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کیا گیا۔ دونوں کنٹریکٹس گزشتہ سیشنز سے تیزی سے گرے، جب برینٹ چھ ماہ کی بلند سطح پر پہنچ گیا تھا اور ڈبلیو ٹی آئی ستمبر کے بعد سب سے زیادہ قیمت پر تھا۔

ٹرمپ نے ایران کو بارہا دھمکی دی تھی کہ اگر وہ نیوکلیئر معاہدے پر نہیں آئے گا یا مظاہرین کو قتل روکنے میں ناکام رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔ ہفتے کے روز ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کر رہا ہے، اس سے چند گھنٹے قبل تہران کے اعلیٰ سکیورٹی اہلکار علی لاریجانی نے کہا کہ مذاکرات کے انتظامات جاری ہیں۔

ایسٹرن مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائی کامور کے مطابق ٹرمپ کے بیانات اور ایران کے انقلابی گارڈز کی جانب سے آبنائے ہرمز میں لائیو فائر مشقیں نہ کرنے کی خبریں کشیدگی میں کمی کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق اس سے تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خطرے کا پریمیم کم ہوا اور منافع لینے کی سرگرمی بڑھی۔

اوپیک پلس نے اتوار کو مارچ میں اپنی تیل پیداوار کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ نومبر میں انہوں نے جنوری سے مارچ 2026 کے لیے اضافی پیداوار روک دی تھی کیونکہ موسم کے لحاظ سے طلب کم تھی۔

کیپٹل اکنامکس کے مطابق جغرافیائی سیاسی خطرات بنیادی طور پر تیل کی مارکیٹ کو دباؤ میں رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ اور مارکیٹ کی بھرپور رسد، برینٹ کرُڈ کی قیمتوں پر 2026 کے آخر تک اثر ڈالے گی۔