سونا پہنچ سے باہر، سرمایہ کاروں کی نظریں چاندی اور تانبے پر
- عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 5,346.42 ڈالر فی اونس پر آگیا
بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث حالیہ ہفتوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں جس نے اس بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا کہ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اس تیزی کے رجحان کے پیشِ نظر پاکستانی سرمایہ کاروں کو اپنا سرمایہ کہاں لگانا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس تیزی سے ہونے والے اضافے نے پاکستان میں چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے سونے کو ناقابلِ خرید بنا دیا ہے جس کے باعث متبادل دھاتوں بالخصوص چاندی میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
انٹرایکٹو کموڈٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر عدنان یونس اگر نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو سونا اتنا مہنگا ہوچکا ہے کہ یہ بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے اور لوگوں نے گزشتہ 3 سے 4 ماہ سے چاندی میں سرمایہ کاری شروع کردی ہے۔
جیولرز سمیت عام افراد اب تانبے (کاپر) میں بھی سرمایہ کاری کررہے ہیں، کیونکہ اس وقت اس کی قیمت بہت کم ہے لیکن یہ تیزی سے دیگر دھاتوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اوپر آ رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث جمعہ کو سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، تاہم مسلسل جغرافیائی و سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کی جانب سے اس محفوظ پناہ گاہ کا رخ کرنے کی وجہ سے یہ 1980 کے بعد اپنا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ریکارڈ کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 5,346.42 ڈالر فی اونس پر آگیا جبکہ گزشتہ روز اس نے 5,594.82 ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھوا تھا۔ تاہم جنوری میں اب تک سونے کی قیمتوں میں 24 فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔
دوسری جانب اسپاٹ سلور کی قیمت 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 115.83 ڈالر فی اونس رہی جو جمعرات کو 121.64 ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ چاندی کی قیمت میں اس ماہ اب تک 62 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور یہ اپنی تاریخ کی بہترین ماہانہ کارکردگی دکھانے کی راہ پر گامزن ہے۔
عدنان اگر نے نوٹ کیا کہ چاندی کی بڑے پیمانے پر خریداری اور اسے ذخیرہ کرنے کا رجحان دیکھا گیا ہے جس میں عالمی طلب کی بڑی وجہ چین کو قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختصر مدت میں چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری رہے گا اور سال کے اختتام تک اس کے 200 ڈالر فی اونس تک پہنچنے کی توقع ہے۔
تاہم جاری تیزی کے باوجود تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ سونے کی طرح چاندی میں بھی قیمتوں کی درستی آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’توقع ہے کہ چاندی کی قیمت 30 سے 40 فیصد تک واپس گرسکتی ہے، یعنی 75 سے 80 ڈالر تک آ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں چاندی ایک گرام سے لے کر ایک کلو گرام تک کی مقدار میں خریدی جا سکتی ہے جو اسے مختلف طبقے کے سرمایہ کاروں کی پہنچ میں لاتی ہے۔
دوسری جانب، سونا مہنگا ہونے کے باوجود مرکزی بینکوں کی جانب سے جارحانہ خریداری اور مسلسل جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث طویل مدتی طور پر مستحکم نظر آتا ہے۔
جے پی مورگن اور گولڈمین سیکس سمیت بڑے عالمی سرمایہ کاری بینکوں نے پہلے ہی سونے کی قیمتوں کے 5,500 سے 5,600 ڈالر کی حد میں رہنے کی پیش گوئی کی تھی جو کہ اب حاصل ہوچکی ہے۔ عدنان اگر کا کہنا ہے کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ 2026 میں سونے کی قیمت 6,000 سے 6,500 ڈالر فی اونس تک چلی جائے، تاہم اس میں 5,000 ڈالر تک کی کمی بھی آ سکتی ہے۔
اسی دوران اپنی نسبتاً کم قیمت اور بڑھتی ہوئی عالمی طلب کی وجہ سے تانبہ بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، تاہم عدنان یونس اگر نے خبردار کیا کہ چاندی اور تانبے کی دوبارہ فروخت میں پاکستان میں بڑے چیلنجز درپیش ہیں کیونکہ مقامی جیولری مارکیٹ میں معیار کی جانچ کا کوئی یکساں نظام موجود نہیں اور خرید و فروخت کی قیمتوں میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف سونے کی قیمتوں میں فرق (اسپریڈ) بہت کم ہے کیونکہ اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
مزید برآں سونے کے برعکس پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج پر چاندی اور تانبے کی فزیکل ڈیلیوری (یعنی دھات کی صورت میں وصولی) دستیاب نہیں ہے، جو ان کی کشش کو محدود کر دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ مختصر مدت میں اتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں کمی کی توقع ہے لیکن جب تک چین اور مرکزی بینکوں کی جانب سے طلب برقرار رہے گی، قیمتی دھاتوں کا مجموعی منظرنامہ مثبت رہے گا۔