امریکہ ایران کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ کروڈ فیوچرز میں 50 سینٹ، یا 0.73 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 68.9 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
تیل کی قیمتیں جمعرات کو تیسرے روز بھی بڑھ گئیں کیونکہ سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ امریکہ ممکنہ طور پر مشرق وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے ملک ایران پر عسکری حملہ کر سکتا ہے، جس سے خطے سے تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز میں 50 سینٹ، یا 0.73 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 68.9 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 58 سینٹ، یا 0.92 فیصد بڑھ کر 63.79 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ دونوں کنٹریکٹس نے 26 جنوری کے بعد تقریباً 5 فیصد اضافہ کیا ہے اور یہ سطح 29 ستمبر کے بعد سب سے بلند ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خاتمے کے لیے فوجی حملوں کی دھمکی دی اور ایک امریکی بحری بیڑا خطے میں پہنچ گیا۔ ایران اوپیک کے چار بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور یہاں روزانہ 3.2 ملین بیرل تیل پیدا ہوتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ ایران کی سیکیورٹی فورسز اور رہنماؤں پر حملہ کرنے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاکہ عوامی احتجاج کو بھڑکا کر موجودہ حکومت کو ہٹانے کی کوشش کی جا سکے۔ سٹی کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ ایران پر ممکنہ حملے کی غیر یقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں میں 3 سے 4 ڈالر فی بیرل کا جیوپولیٹیکل پریمیم شامل کر دیا ہے اور مزید تناؤ سے برینٹ کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
امریکہ میں تیل کے ذخائر میں غیر متوقع کمی نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا۔ انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 23 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی تیل کے ذخائر 2.3 ملین بیرل کم ہو کر 423.8 ملین بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ ماہرین نے 1.8 ملین بیرل اضافے کی توقع کی تھی۔
سٹی کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ بڑھتے جیوپولیٹیکل خطرات، روسی تیل پر امریکی پابندیاں اور چین کی مسلسل خریداری کے باعث تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں، حالانکہ سال کے آغاز میں مارکیٹیں بڑے اضافے کی توقع کر رہی تھیں۔