عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل معمولی کمی کے ساتھ نیچے آیا جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا۔ قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ اس وقت سامنے آیا جب شدید سردی کے طوفان کے باعث امریکہ میں تیل کی پیداوار اور خلیجی ساحل سے برآمدات متاثر ہوئیں۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 6 سینٹ کمی کے بعد تقریباً 67.5 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل معمولی اضافے کے ساتھ 62.4 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ اس سے ایک روز قبل دونوں کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آنے والے برفانی طوفان کے نتیجے میں امریکہ میں یومیہ 20 لاکھ بیرل تک پیداوار متاثر ہوئی، جو ملکی پیداوار کا تقریباً 15 فیصد بنتا ہے۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بجلی کے نظام پر دباؤ کے باعث تیل کی ترسیل اور برآمدی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ اتوار کے روز خلیجی ساحل کی بندرگاہوں سے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات عارضی طور پر مکمل طور پر رک گئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سرد موسم اور قازقستان میں رسد سے متعلق خدشات قیمتوں کو سہارا دے رہے ہیں، تاہم جیسے ہی رسد معمول پر آئے گی فروخت کا دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔ اندازہ ہے کہ عالمی منڈی میں رسد اور طلب کے توازن کے ساتھ جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں قیمتوں کو ایک محدود دائرے میں رکھ سکتی ہیں۔
قازقستان کی بڑی آئل فیلڈز میں آگ اور بجلی کی بندش کے بعد پیداوار مکمل بحال ہونے میں وقت لگ رہا ہے۔ دوسری جانب پائپ لائن کمپنی نے بحیرہ اسود کی بندرگاہ پر مرمت مکمل ہونے کے بعد لوڈنگ صلاحیت بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بھی رسد سے متعلق خدشات کو بڑھا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی بحری بیڑہ خطے میں پہنچ چکا ہے جس سے ممکنہ فوجی سرگرمیوں کے امکانات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اسی دوران تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کے اتحاد کی جانب سے آئندہ مہینے پیداوار میں اضافے کا منصوبہ مؤخر رکھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔