حکومت تاجر برادری کو ریلیف دینے میں ناکام رہی، وفاقی چیمبر
- غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، نائب صدر امان پراچہ
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر امان پراچہ نے کہا ہے کہ تمام تر وعدوں کے باوجود حکومت تاجر برادری کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، برآمدات میں مسلسل کمی آرہی ہے اور اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ آنے والے وفاقی بجٹ 27-2026 میں موثر اقدامات کا اعلان کیا جائے تاکہ پالیسیوں میں واضح بہتری لا کر ملک کو درست سمت پر ڈالا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بجٹ میں پالیسیاں تشکیل دینے سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ پالیسی سازی میں کسی قسم کی خامی یا ابہام کی گنجائش نہ رہے۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر نے کہا کہ سرکاری حکام تاجروں کے جائز تحفظات تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں جس کے باعث کاروباری افراد کو عدالتوں یا وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف قیمتی وقت ضائع کرتا ہے بلکہ اس سے کاروباری برادری میں مایوسی اور بے چینی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
امان پراچہ نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی ریذیڈنٹ نمائندہ، مہر بی بی نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ بلند افراطِ زر (مہنگائی) نے پاکستانی عوام، بالخصوص کم آمدنی والے طبقات کو شدید متاثر کیا ہے۔
اسی لیے آئی ایم ایف نے قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایک سخت اور قابلِ اعتبار مانیٹری پالیسی، مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک) کی خودمختاری، اور مہنگائی کی توقعات کو کنٹرول کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں بجلی صارفین پر اضافی بوجھ ڈالا ہے، تین ماہ کے لیے بجلی کے نرخ بڑھا دیے ہیں، جبکہ نیپرا نے بھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ 32 پیسے کا اضافی چارج منظور کیا ہے۔
یہ اضافی رقم صارفین سے دسمبر، جنوری اور فروری میں استعمال ہونے والے یونٹس کے لیے وصول کی جائے گی۔ ایک طرف حکومت مسلسل مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کر رہی ہے اور قومی و بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں بھی معاشی بہتری کی رپورٹ دے رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔
شدید مہنگائی کے اس دور میں غریب شہریوں کے لیے روزمرہ گزارہ کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے جبکہ نوجوان نسل بے روزگاری سے مایوس ہو کر بیرون ملک ہجرت کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مہنگائی میں کمی کے تمام دعوے واقعی حقائق پر مبنی ہیں، تو پھر ان کے فوائد عام لوگوں تک کیوں نہیں پہنچ رہے؟ یہاں تک کہ حکومت کے اپنے بیورو آف اسٹاٹسٹکس بھی ہفتہ وار بنیادوں پر ان دعووں کی تردید کرتا ہے، اور اب آئی ایم ایف نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مہنگائی نے کم آمدنی والے طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026