پاکستان

گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا گل پلازہ سانحے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

  • سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 60 ہوگئی، درجنوں افراد تاحال لاپتہ
شائع January 23, 2026 اپ ڈیٹ January 23, 2026 02:10pm

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سانحے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 60 ہوگئی جب کہ درجنوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ کراچی کی مارکیٹوں اور کارخانوں میں آگ لگنے کے واقعات عام ہیں، جو اپنے ناقص انفرااسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے) کی وجہ سے جانے جاتے ہیں لیکن اتنے بڑے پیمانے پر آتشزدگی کا واقعہ شاذ و نادر ہی پیش آتا ہے۔

تاحال لاپتہ افراد کے لواحقین نے 3 منزلہ گل پلازہ میں جاری سست رفتار آپریشن پر کڑی تنقید کی جہاں ریسکیو اہلکار ملبے کے ڈھیر میں انسانی باقیات کی تلاش میں مصروف ہیں۔

گل پلازہ سانحے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ میں اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری (عدالتی تحقیقات) کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھنے جا رہا ہوں۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کھلے مین ہولز میں گرنے کی وجہ سے پہلے ہی کئی بچے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

حکومتی کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم آتشزدگی کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی ہے۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ اس المناک واقعے کے ایک ہفتے بعد بھی سیاست چمکائی جا رہی ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوسروں پر ملبہ ڈالنے (الزام تراشی) کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ذاتی طور پر اس بات کی تحقیقات کرنی چاہئیں کہ مشینری درست طریقے سے کام کیوں نہیں کر رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس سانحے میں جان گنوانے والے شخص کے بیٹے پر لاٹھی چارج کیوں کیا گیا جبکہ ماؤں کو انصاف کے لیے بھیک مانگنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

کامران ٹیسوری نے بیان دیا کہ عوام کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ٹیکس بھی ادا کریں اور اپنی جانوں کا نذرانہ بھی دیں۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر کسی نے بھی اس معاملے پر سیاست کی تو وہ سب کے راز فاش کر دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ اس پر پردہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

گورنر سندھ نے مزید کہا کہ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی کہیں گے کہ کراچی آپ کا منتظر ہے، فیلڈ مارشل خود دیکھیں کہ یہاں زیادتی کس نے کی ہے۔