اسٹاک مارکیٹ میں تیزی جاری، 100 انڈیکس تقریباً 2,700 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند
- تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ ایم پی سی اجلاس میں پالیسی ریٹ کم ہونے کا امکان ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو خریداری کا رجحان جاری رہا، اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 2,700 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا، جس کی بنیاد پالیسی ریٹ میں کمی کی توقعات تھیں۔
ٹریڈنگ سیشن کے دوران خریداری کا بھرپور رجحان دیکھا گیا، جس کی بدولت کے ایس ای 100انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران بلند ترین سطح 187,882.04 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 187,761.69 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 2,662.86 پوائنٹس یا 1.44 فیصد کے اضافے کے برابر ہے۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ سرمایہ کاروں کا رجحان مثبت رہا، جس کی بڑی وجہ متوقع شرح سود میں کمی کی بڑھتی ہوئی توقعات تھیں۔ مارکیٹ کے شرکاء آنے والی مانیٹری پالیسی میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کو شامل کر رہے تھے، جس سے خریداری کا رجحان برقرار رہا اور وسیع پیمانے پر منافع کو سہارا ملا۔
اہم پیش رفت کے طور پر، پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ نے دسمبر 2025 میں 244 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا، جیسا کہ پیر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی ) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا۔ یہ خسارہ نومبر 2025 میں ریکارڈ شدہ 98 ملین ڈالر کے سرپلس کے بعد سامنے آیا، جو اصل میں 100 ملین ڈالر بتایا گیا تھا، جبکہ دسمبر 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس 454 ملین ڈالر تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خریداری کی اس تیزی کی بنیادی وجہ آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود میں کمی کی توقعات ہیں جو 26 جنوری 2026 کو منعقد ہونا ہے۔
گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج نے مضبوط بنیادوں پر اختتام کیا جہاں آخری کاروباری سیشن میں زبردست بحالی کے باعث بینچ مارک 100 انڈیکس وہ نقصانات پورے کرنے میں کامیاب رہا جو خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ہوئے تھے۔ ہفتہ وار بنیاد پر کے ایس ای 100 انڈیکس 689.16 پوائنٹس یا 0.4 فیصد اضافے سے 185,098.83 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔ یہ گراوٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 8 یورپی ممالک پر اضافی ٹیرف (محصولات) لگانے کی دھمکی کے بعد سامنے آئی جس کا مقصد امریکہ کو گرین لینڈ خریدنے کی اجازت دلوانا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی آئی ہے جب کہ سرمایہ کاروں نے محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے جاپانی ین اور سوئس فرانک کا رخ کر لیا ہے۔
امریکی ایکویٹی (حصص) اور بانڈ مارکیٹوں میں تعطیل کے باعث تجارت کا حجم کم رہا جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.8 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 1.1 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
یورپ میں یورو اسٹوکس 50 اور ڈی اے ایکس فیوچرز دونوں میں 1.3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں 0.6 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ ادھر جاپان کا نکیئی انڈیکس 1.4 فیصد گر گیا جبکہ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے وسیع ترین ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 0.3 فیصد کی معمولی کمی آئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، فن لینڈ اور برطانیہ سے آنے والی اشیاء پر 10 فیصد اضافی درآمدی محصولات (لیویز) عائد کردیں گے اور اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو یکم جون تک ان محصولات کو بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔
یورپی یونین کی بڑی ریاستوں نے گرین لینڈ کے معاملے پر محصولات (ٹیرف) کی دھمکیوں کو بلیک میلنگ قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی جبکہ فرانس نے اس کے جواب میں متعدد ایسے معاشی اقدامات تجویز کیے ہیں جن کا پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا گیا تھا۔
یورپی یونین کے پاس دستیاب اختیارات میں 93 ارب یورو مالیت کی امریکی درآمدات پر محصولات کا وہ پیکیج شامل ہے جسے اگست کے اوائل میں چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا تھا، اس کے علاوہ اینٹی کورشن انسٹرومنٹ کے تحت ایسے اقدامات بھی شامل ہیں جو امریکہ کی سروسز (خدمات) کی تجارت یا سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ڈوئچے بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی ممالک کے پاس امریکی بانڈز اور ایکویٹیز کی مد میں تقریباً 8 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری موجود ہے جو دنیا کے باقی تمام ممالک کی مجموعی سرمایہ کاری سے تقریباً دوگنا ہے اور ممکن ہے کہ یورپی ممالک اس سرمائے کا کچھ حصہ واپس اپنے خطے میں لانے پر غور کریں۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مضبوط رہا اور اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبارکے اختتام پر مقامی کرنسی 279.92 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں تین پیسے کا اضافہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس پر حجم 1,198.65 ملین تک بڑھ گیا، جو پچھلی بندش پر ریکارڈ شدہ 959.53 ملین تھا۔ تاہم، حصص کی قدر 63.80 ارب روپے تک گر گئی، جو پچھلے سیشن میں 69.46 ارب روپے تھی۔
بینک مکرمہ سب سے زیادہ حجم رکھنے والا اسٹاک رہا جس کے 246.26 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد پاک انٹرنیشنل بلک 104.62 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور کے الیکٹرک لمیٹڈ 63.31 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
پیر کے روز مجموعی طور پر 486 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 278 کے حصص میں اضافہ، 167 میں کمی اور 41 کمپنیوں کے شیئرز میں استحکام رہا۔