کاروبار اور معیشت

حکومت کی قانون میں ترامیم کے ذریعے نیپرا کو پاور ڈویژن کے ماتحت لانے کی تیاری

  • پاور ڈویژن کی اعلیٰ قیادت نیپرا کے ارکان کے رویے سے ناخوش رہی ہے اور بعض افسران نے انہیں ججوں کی طرح برتاؤ کرنے والا قرار دیا ہے
شائع January 15, 2026 اپ ڈیٹ January 15, 2026 10:06am

اطلاعات کے مطابق حکومت نے نیپرا ایکٹ 1997 اور الیکٹریسٹی ایکٹ 1910 میں ترامیم حتمی شکل دے دی ہیں، جن کا مقصد نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو مؤثر طور پر پاور ڈویژن کے ماتحت بنانا بتایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات نیپرا کی آزادانہ فیصلہ سازی کی صلاحیت کو محدود کر سکتے ہیں۔

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ مجوزہ ترامیم میں مختلف ریگولیٹری تجاویز کی منظوری کے لیے وفاقی حکومت کے لفظ کی جگہ پاور ڈویژن یا متعلقہ ڈویژن استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ طویل عرصے سے پاور ڈویژن کی اعلیٰ قیادت نیپرا کے ارکان کے رویے سے ناخوش رہی ہے اور بعض افسران نے انہیں ججوں کی طرح برتاؤ کرنے والا قرار دیا ہے۔

مجوزہ ترامیم کے تحت، الیکٹرک پاور کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے ریگولیشن ایکٹ 1997 میں سیکشن 3(a) کے تحت نیپرا کو ٹیرف، نرخ، چارجز اور دیگر شرائط متعین کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم یہ سفارشات متعلقہ ڈویژن کو بھیجی جائیں گی۔ نئے سیکشن 31(7) کے تحت، نیپرا کی منظوری شدہ ٹیرف یا یکساں ٹیرف کی اشاعت ڈویژن کے ذریعے 30 دن کے اندر کی جائے گی۔ اگر ڈویژن مقررہ مدت میں کارروائی نہ کرے، تو نیپرا اپنی منظوری کو فوری نافذ کر سکتا ہے۔

سیکشن 31(7)(i) کے تحت ڈویژن 30 دن میں نیپرا سے ٹیرف پر دوبارہ غور کرنے کا کہہ سکتا ہے، جبکہ سیکشن 31(7)(ii) کے مطابق نیپرا سہ ماہی بنیاد پر ٹیرف میں ترمیم کر سکتا ہے، جسے ڈویژن کی جانچ کے بعد گیژٹ میں نوٹیفائی کیا جائے گا۔ سیکشن 31(7)(iii) کے تحت ڈویژن دوبارہ غور کے بجائے اپیل بھی دائر کر سکتا ہے، تاہم دوبارہ غور کی درخواست دائر ہونے کے بعد اپیل کا حق نہیں رہے گا۔

اسی طرح الیکٹریسٹی ایکٹ 1910 میں بھی ترامیم کی گئی ہیں، جس میں وفاقی حکومت کے لفظ کی جگہ متعلقہ اتھارٹی یا ڈویژن استعمال ہوگا۔ نئے سیکشن 32(2) کے مطابق کسی بھی تنازع کو متعلقہ ڈویژن کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو آپریٹر کو قانون کے مطابق تبدیلی کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نیپرا کو پاور ڈویژن کے ماتحت کرنے کی کوشش ہیں، جس سے ریگولیٹر کی آزادانہ فیصلہ سازی اور ٹیرف تعین کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026