بھاری ٹیکس اور مہنگی توانائی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا کی بڑی وجہ ہے، وزیر خزانہ کا اعتراف
- سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار ہے اور نئی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیاں مسلسل مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ بلند ٹیکس شرح اور بجلی و گیس کے مہنگے نرخوں کی وجہ سے کچھ ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار ہے اور نئی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیاں مسلسل مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں۔
انہوں نے یہ بات پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کی میزبانی پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) نے کارپوریٹ پاکستان گروپ (سی پی جی) اور نٹ شیل گروپ کو اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر شامل کرتے ہوئے کی، اور وزارتِ تجارت ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) بانی پارٹنرز کے طور پر شامل تھی۔ ڈائیلاگ کو بینک الفلاح اور بینک اسلامی نے بطور پلاٹینم اور گولڈ پارٹنرز کے سپورٹ فراہم کی۔
وزیر خزانہ نے نشاندہی کی کہ اگر کمپنیوں کے کاروباری ماڈل گزشتہ دہائیوں پر قائم رہیں تو وہ موجودہ معاشی چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے نیسلے اور یونی لیور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح یہ کمپنیاں مقامی خام مال کے استعمال کے ذریعے اخراجات کم رکھ کر برآمدات تک جا پہنچی ہیں، اسی طرز پر دیگر سرمایہ کار بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ اٹھارہ ماہ میں بیس نئے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان آئے ہیں جن میں گوگل، آرامکو، وافی انرجی اور ترک پٹرولیم شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی بحالی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف منتقلی جیسے اہم اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں، اور جون تک تمام سرکاری ادائیگیاں آن لائن طریقے سے کی جائیں گی۔
ان کے مطابق سالانہ ترسیلات زر اکتالیس ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو زرمبادلہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ پبلک سیکٹر اداروں کی نااہلی ملک کو سالانہ ایک کھرب روپے تک کا نقصان پہنچا رہی ہے، اسی لیے حکومت بیکار سبسڈی میں جکڑے اداروں کو بند کر رہی ہے تاکہ وسائل مؤثر طریقے سے استعمال ہو سکیں۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پانچ برس میں ریگولیٹری ڈیوٹی سمیت درآمدی ڈیوٹیوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا تاکہ صنعتیں کم لاگت پر پیداوار کر سکیں اور براہ راست برآمدات کی طرف بڑھیں۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ معاشی ترقی کا راستہ سیاسی استحکام سے ہو کر گزرتا ہے اور پالیسیوں کی تسلسل کے بغیر کوئی معیشت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نے دفاعی برآمدات کے حوالے سے جے ایف سترہ طیاروں کی برآمدات کو اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کو معاشی سلامتی کے لیے برآمدات کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔
وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا کہ ملک کی ترقی چند بااثر طبقات کے لیے دی گئی سبسڈیوں کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کی جمہوری تقسیم اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے بغیر پاکستان پیداواری معیشت نہیں بن سکتا۔
دیگر ماہرین نے بھی اتفاق کیا کہ توانائی کی قیمتوں، بلند ٹیکس شرح اور انتظامی ناکامیوں نے صنعتی ترقی کی رفتار کم کر دی ہے اور فوری اصلاحات کے بغیر معیشت مسلسل دباؤ میں رہے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026