پاکستان

ڈیجیٹل پاکستان وژن کے مطابق سرکاری خریداری کے نظام میں اہم اصلاحات نافذ کر دیں، پیپرا

  • مالی سال 2024-25 کے دوران ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پیڈز) کے ذریعے 5 لاکھ 26 ہزار سے زائد خریداری کے لین دین مکمل کیے گئے
شائع January 13, 2026 اپ ڈیٹ January 13, 2026 09:21am

پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) نے وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان وژن اور عالمی بہترین طریقوں کے مطابق سرکاری خریداری کے نظام میں اہم اصلاحات نافذ کر دی ہیں، جن کے تحت مالی سال 2024-25 کے دوران ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پیڈز) کے ذریعے 5 لاکھ 26 ہزار سے زائد خریداری کے لین دین مکمل کیے گئے جن کی مجموعی مالیت 1.408.58 ٹریلین روپے رہی۔ یہ بات پیر کو ایم ڈی پیپرا حسنات احمد قریشی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری خریداری کی ڈیجیٹل تبدیلی کا مرکز ای پیڈز ہے جس نے پہلے ہی پورے ملک کی پروکیورمنٹ کو خودکار اور شفاف بنا دیا ہے، جبکہ اس نظام کا جدید ورژن، ای پیڈز 2.0، جلد متعارف کرایا جا رہا ہے۔حسنات احمد قریشی کے مطابق بین الاقوامی اور مقامی ماہرین کی تشخیص کے بعد وزیراعظم کی منظوری سے 2024 میں ایک جامع اصلاحاتی پروگرام شروع کیا گیا، جس میں قانونی تبدیلیاں، ڈیجیٹل سسٹم کا نفاذ، استعداد کار میں اضافہ اور ادارہ جاتی اصلاحات شامل ہیں۔

ای پیڈز کو وفاقی حکومت اور تین صوبوں میں نافذ کرنے کے بعد اب تک 9 ہزار 846 خریداری ادارے اور 43 ہزار سپلائرز، بشمول 600 بین الاقوامی کمپنیوں نے اس نظام پر رجسٹریشن کرائی ہے۔ ایم ڈی پیپرا نے بتایا کہ نظام کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو، نادرا، ایس ای سی پی، پاکستان انجینئرنگ کونسل، ایف اے بی ایس، صوبائی ریونیو اتھارٹیز اور ڈریپ کے ساتھ یکجا کیا جا چکا ہے، جبکہ آڈیٹر جنرل، نیب، پی ای سی اور مسابقتی کمیشن کے لیے علیحدہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈز بھی بنائے گئے ہیں۔

حسنات قریشی کے مطابق ای پیڈز کے نفاذ سے بولی کے عمل میں شفافیت بڑھی ہے، سازباز کم ہوئی ہے اور مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ماضی میں کھلی نیلامی میں دو سے تین فریق شریک ہوتے تھے جبکہ اب پانچ سے سات بولی دہندگان حصہ لیتے ہیں۔ بلیک لسٹ کمپنیوں کی شمولیت روکی گئی ہے اور نظام تاخیر کی نشاندہی کے ساتھ شکایات کے ازالے کا موثر طریقہ بھی فراہم کرتا ہے۔ 500 ملین روپے سے زائد اشیا اور خدمات اور ایک ارب روپے سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں کی بولی کا عمل براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

آئندہ منصوبوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ایم ڈی پیپرا نے کہا کہ ای پیڈز 2.0 جنوری 2026 میں وفاق میں متعارف کرایا جائے گا جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فروری میں اور صوبوں میں مارچ کے دوران نافذ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈونر فنڈڈ پروکیورمنٹ 2026 کے آخر تک مکمل طور پر ای پیڈز پر منتقل ہو جائے گی جبکہ آن لائن پروکیورمنٹ اکیڈمی کا قیام بھی کیا جا رہا ہے۔

حسنات قریشی نے کہا کہ نئے قواعد میں لازمی ای پروکیورمنٹ، شفاف نگرانی، آزاد شکایات کا فورم، تیز تر خریداری کے طریقے اور پیشہ ورانہ عمل شامل ہیں۔ پیپرا نے ملک بھر میں 10 ہزار سرکاری اہلکاروں اور سپلائر نمائندوں کو تربیت فراہم کی ہے، جبکہ ادارے میں آئی ٹی اور شعبہ جاتی ماہرین بھرتی کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات پاکستان کے خریداری نظام کو جدید، شفاف اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے فیصلہ کن قدم ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026