نیشنل اکاؤنٹس، خود ستائشی کا فن
- تازہ نیشنل اکاؤنٹس بظاہر اس انداز میں سنوارے گئے محسوس ہوتے ہیں کہ وہ وزارتِ خزانہ کے بیانیے میں بآسانی فِٹ ہو جائیں
تازہ نیشنل اکاؤنٹس بظاہر اس انداز میں سنوارے گئے محسوس ہوتے ہیں کہ وہ وزارتِ خزانہ کے اس بڑھتے ہوئے بیانیے میں بآسانی فِٹ ہو جائیں جس میں بار بار یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سب کچھ درست سمت میں جا رہا ہے اور کام بخوبی انجام دیا جا چکا ہے۔
مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.7 فیصد بتائی جا رہی ہے، مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور مالیاتی صورتحال میں بہتری کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ اس مجموعی تصویر سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ استحکام کامیاب ہو چکا ہے، بحالی شروع ہو گئی ہے اور ہدف قریب ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ حقیقی معیشت اس کہانی سے میل نہیں کھاتی، اور کاغذی اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان خلا بڑھتا جا رہا ہے۔
زراعت اس تضاد کی سب سے واضح مثال ہے۔ نیشنل اکاؤنٹس میں پہلی سہ ماہی کے دوران زراعت کی نمو 2.9 فیصد دکھائی گئی ہے، حالانکہ یہی وہ عرصہ ہے جب خریف کی بڑی فصلوں میں موسمیاتی اور سیلابی نقصانات کا باضابطہ اعتراف کیا جا چکا ہے۔
ڈی اے پی کھاد کا استعمال نمایاں طور پر کم ہوا ہے، مویشیوں کی قیمتیں مسلسل دو سال سے مجموعی غذائی افراطِ زر سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اور کپاس، چاول، مکئی اور گنا جیسی اہم فصلوں کی پیداوار اب تک گزشتہ سال سے کم رہی ہے۔ اس کے باوجود مویشیوں کے شعبے میں چھ فیصد سے زائد نمو دکھائی جا رہی ہے اور مجموعی زراعت کو ترقی یافتہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جب گھریلو قوتِ خرید دباؤ میں ہو اور پروٹین کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں تو منطقی نتیجہ رسد کی قلت کی طرف اشارہ کرتا ہے، نہ کہ کسی غیر معمولی پیداواری بہتری کی طرف۔
کسان سازگار حالات میں ڈی اے پی کا استعمال کم نہیں کرتے، وہ ایسا تب کرتے ہیں جب منافع سکڑ جائے اور خطرات بڑھ جائیں۔ اس لیے اس صورتحال کو وسیع البنیاد ترقی ماننا مشکل ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ مہنگائی کو ویلیو ایڈیشن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
صنعتی شعبے کی تصویر بھی اسی طرح خوش نما بیان کی جا رہی ہے۔ نیشنل اکاؤنٹس کے مطابق صنعت میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، حالانکہ بڑی صنعتوں کی یہ بحالی ایک نہایت کم بنیاد سے ہوئی ہے جو درآمدی پابندیوں اور طلب کی تباہی کے نتیجے میں بنی تھی۔ جیسے ہی یہ رکاوٹیں ہٹتی ہیں، ایک قدرتی ری باؤنڈ آتا ہے، جو صنعتی احیا نہیں بلکہ محض معمول کی بحالی ہے۔
اسی دوران بجلی، گیس اور پانی کے شعبے میں مضبوط نمو دکھائی جا رہی ہے، حالانکہ توانائی کی معیشت اب بھی بلند ٹیرف، طلب میں دباؤ اور دائمی گردشی قرضے کا شکار ہے۔ ایسے میں صنعتی طاقت کے دعوؤں کو توانائی کی حقیقت سے ہم آہنگ کرنا مشکل ہے۔
خدمات کا شعبہ بھی ترقی کی کہانی مکمل نہیں کرتا۔ مالیات اور انشورنس کے شعبے میں تیز رفتار نمو دکھائی گئی ہے، مگر نجی شعبے میں رسک لینے کی صلاحیت محدود ہے اور بینک اب بھی حقیقی معیشت کے بجائے سرکاری سیکیورٹیز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ قرضوں اور ڈپازٹس کا تناسب تاریخی طور پر کم ہے، اور اگر مالیاتی خدمات واقعی پھیل رہی ہوتیں تو نجی شعبے کو زیادہ اور طویل مدتی قرضہ ملتا، جو نظر نہیں آتا۔
مجموعی جی ڈی پی کا عدد بھی اس وقت سوالیہ نشان بن جاتا ہے جب کمزور گھریلو بیلنس شیٹس، محتاط سرمایہ کاری اور غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت کو سامنے رکھا جائے۔ جب نیشنل اکاؤنٹس کی کہانی زمینی حقیقت سے بہت دور ہو جائے تو بیانیے پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، اور یہی صورتحال اب سامنے آ رہی ہے۔
مہنگائی کے حوالے سے بھی انتخابی بیانیہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ سرخیوں میں سی پی آئی میں کمی دکھائی جاتی ہے، مگر بنیادی مہنگائی اب بھی اسٹیٹ بینک کی مطلوبہ درمیانی مدت کی حد سے اوپر ہے۔ روزمرہ زندگی کی اشیا جیسے دودھ، گوشت، صحت، تعلیم اور خدمات اب بھی مہنگی ہیں، یعنی عوام کو حقیقی ریلیف نہیں بلکہ محض سست رفتار دباؤ کا سامنا ہے۔
برآمدات بھی اس بحالی کے دعوے سے ہم آہنگ نہیں۔ اگر معیشت واقعی پائیدار ترقی کی طرف بڑھ رہی ہوتی تو برآمدی مسابقت بہتر ہو رہی ہوتی، مگر صورتحال یہ ہے کہ درآمدات تیزی سے معمول پر آ رہی ہیں جبکہ برآمدات پیچھے ہیں، جو پرانی بیرونی کمزوریوں کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔
مالیاتی محاذ پر پہلی سہ ماہی کا سرپلس بھی غیر معمولی آمدن اور وقتی سہولتوں کا نتیجہ ہے، جبکہ ٹیکس نظام کی کمزوریاں، اخراجات میں اصلاحات کی کمی اور قرضوں کا بھاری بوجھ بدستور موجود ہے۔
اسی پس منظر میں 2026 کے لیے ترقیاتی ایجنڈے کی بات کی جا رہی ہے، مگر ساختی اصلاحات کے بغیر محض بیانیہ آخرکار مایوسی ہی لاتا ہے۔ جب پالیسی ساز خود اپنی کہانی پر یقین کرنے لگیں تو اصلاحات کی فوری ضرورت سب سے پہلے قربان ہوتی ہے۔
اگر پاکستان واقعی 2026 اور اس کے بعد پائیدار ترقی چاہتا ہے تو بیانیے کو اعداد و شمار کے بجائے حقیقت سے جوڑنا ہوگا۔ فی الحال ترقی کی کہانی معیشت میں کم اور کھاتوں میں زیادہ نظر آتی ہے۔