آسٹریلیا 138 برس میں پہلی بار سڈنی ٹیسٹ میں کسی بھی اسپن بولر کے بغیر میدان میں
- میزبان ٹیم نے 1888 کے بعد پہلی بار اس تاریخی مقام پر کسی صفِ اول کے سلو بولر کو شامل نہیں کیا جسے کبھی ملک میں اسپن بولرز کی جنت سمجھا جاتا تھا
سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف آخری ایشیز ٹیسٹ کے لیے کسی اسپنر کا انتخاب نہ کر کے آسٹریلیا نے 138 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک منفرد قدم اٹھایا ہے۔ کپتان اسٹیو اسمتھ کا کہنا ہے کہ وہ حالات کے باعث ایسا کرنے پر مجبور ہوئے۔ 1888 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ میزبان ٹیم نے اس تاریخی مقام پر کسی صفِ اول کے سلو بولر کو شامل نہیں کیا، جسے کبھی اسپنرز کی جنت سمجھا جاتا تھا۔
اسٹیو اسمتھ کے مطابق موجودہ پچیں فاسٹ بولرز کے لیے زیادہ سازگار ہیں، جہاں اسپن کا سامنا کرنا بلے بازوں کے لیے آسان ہو گیا ہے۔
آسٹریلیا میں یہ اب ایک رجحان بن چکا ہے، جہاں تجربہ کار نیتھن لائن اور ٹوڈ مرفی جیسے اسپنرز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ حیران کن طور پر انگلینڈ نے بھی اپنے ٹاپ اسپنر شعیب بشیر کو نہیں کھلایا۔ سیریز کے پہلے چار میچوں میں اسپنرز نے مجموعی طور پر صرف 9 وکٹیں حاصل کیں، جو اس فیصلے کی بڑی وجہ بنی۔