ایف بی آر کا اعلیٰ اجلاس: ٹیکس ہدف کے حصول کی حکمت عملی پر غور
- ایف بی آر ممبر ان لینڈ ریونیو اور ایف بی آر ممبر کسٹمز کی بھی اجلاس میں شرکت
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو اور چیف کلکٹرز کسٹمز کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا تاکہ مالی سال 26-2025 کی دوسری ششماہی (جنوری تا جون) کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو حاصل کرنے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جاسکے۔
اس سلسلے میں ایف بی آر ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) اور ایف بی آر ممبر کسٹمز (آپریشنز) نے بھی اجلاس میں شرکت کی تاکہ مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے والی محصولات کی کمی (شارٹ فال) پر قابو پایا جا سکے۔
ویڈیو لنک کے ذریعے چیئرمین ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کی جانب سے قانونی کارروائی کے بعد پھنسے ہوئے جائز محصولات کی وصولی کی مہم کو سراہا۔ ذرائع کے مطابق، ٹیکس حکام نے رواں مالی سال کی بقیہ مدت کے دوران عدالتی کیسز سے ریکوری، انفورسمنٹ اور انتظامی اقدامات کے ذریعے ہدف پورا کرنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس کو مطلع کیا گیا کہ مالی سال 26-2025 کے لیے ایف بی آر کے ٹیکس وصولی کے ہدف پر نظرثانی کی گئی ہے جسے 14,307 ارب روپے سے کم کر کے 13,979 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اس طرح ہدف میں 328 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ فیلڈ فارمیشنز کے تمام سربراہان نے ٹیکس حکام کے ساتھ مالی سال 26-2025 کی تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ) میں ٹیکس وصولی کے ممکنہ شعبوں کے بارے میں تفصیلات شیئر کیں۔
اضافی ریونیو اقدامات کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا تاکہ مالیاتی اہداف کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس میں فرٹیلائزر اور کیڑے مار ادویات پر ایکسائز ڈیوٹی میں 5 فیصد اضافہ، میٹھی اشیاء پر ایکسائز کا نفاذ اور منتخب اشیاء کو اسٹینڈرڈ ریٹ پر منتقل کر کے سیلز ٹیکس بیس کو وسیع کرنا شامل ہے۔
اجلاس میں ٹیکس وصولی کے تازہ ترین اعدادوشمار شیئر کیے گئے جن کے مطابق مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران ایف بی آر کی کل ٹیکس وصولی 6,169 ارب روپے رہی جبکہ ہدف 6,490 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ اس طرح محصولات کی کمی (شارٹ فال) کم ہو کر 321 ارب روپے رہ گئی ہے۔
عبوری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دسمبر 2025 کے لیے ٹیکس وصولی کی عبوری رقم 1,425 ارب روپے رہی، جبکہ ماہانہ ہدف 1,446 ارب روپے مقرر تھا، جو کہ 21 ارب روپے کی کمی (شارٹ فال) کو ظاہر کرتا ہے۔
اجلاس میں نئے تعینات ایف بی آر ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) زبیر بلال کی ریونیو پیدا کرنے کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا گیا، جس نے زیرِ جائزہ مدت میں ٹیکس وصولی کے خلا کو کم کرنے میں مدد فراہم کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025