سونا تقریباً نصف صدی کے بہترین سال کی جانب گامزن، چاندی کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ
- اسپاٹ گولڈ 4,345.75 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں بدھ کو مستحکم رہیں تاہم یہ چار دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنے سب سے بڑے سالانہ اضافے کی جانب گامزن رہا۔ دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں شدید کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے ریکارڈ توڑ اضافے کے بعد اپنا منافع وصول کرنا شروع کردیا ہے۔
اسپاٹ گولڈ 4,345.75 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہی جب کہ جمعہ کو اس نے ریکارڈ بلند ترین سطح 4,549.71 ڈالر فی اونس کی سطح کو چھو لیا تھا۔
دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچرز (فروری کی ڈیلیوری کے لیے) کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,365.0 ڈالر فی اونس پر آگئی۔
سونے کی قیمتوں میں 2025 کے دوران 66 فیصد اضافہ ہوا جو 1979 کے بعد اس کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے، جب ایرانی انقلاب سمیت دیگر جغرافیائی و سیاسی عوامل کی وجہ سے قیمتیں تیزی سے بڑھی تھیں۔
سونے کی قیمتوں میں اس تیزی کی بنیادی وجہ شرحِ سود میں کٹوتیاں اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے پالیسی میں مزید نرمی کے امکانات، جغرافیائی و سیاسی تنازعات، مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی بھرپور مانگ اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کے ذخائر میں اضافہ رہا ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیمتی دھاتوں میں حالیہ کمی تکنیکی عوامل اور محدود تجارتی حجم سے منسلک ہے۔
ٹیسٹی لائیو میں گلوبل میکرو کے سربراہ، ایلیا سپیوک نے کہا کہ سی ایم ای نے دھاتوں کے مستقبل کے سودوں پر مارجن میں اضافے کا اعلان کیا ہے جو کہ پیر کو قیمتی دھاتوں کے لیے ایک انتہائی تکلیف دہ تبدیلی ثابت ہوئی۔ ایسا لگتا ہے کہ تعطیلات کے باعث اس وقت مارکیٹ میں خریداروں اور فروخت کنندگان کی تعداد بہت کم ہے۔
امریکی ڈالر کی قدر ایک ہفتے سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں فروخت ہونے والا سونا دیگر کرنسیوں کے حاملین کے لیے مہنگا ہو گیا۔
فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) کے دسمبر کے اجلاس کی تفصیلات سے ظاہر ہوا کہ پالیسی سازوں نے انتہائی باریک بین اور طویل بحث کے بعد ہی شرحِ سود میں کٹوتی پر اتفاق کیا، تاہم تاجروں کو توقع ہے کہ اگلے سال مزید دو بار کٹوتی کی جائے گی۔
شرحِ سود میں کمی کا ماحول عام طور پر سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثوں کے لیے سازگار ہوتا ہے۔
ایلیا سپیوک نے کہا کہ شاید (2026 کی) پہلی سہ ماہی کے اختتام تک ہم سونے کی قیمت کو 5,000 ڈالر کی سطح کو آزماتے ہوئے دیکھ سکیں۔ یقیناً، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سونے کی قیمتوں کو تحریک دینے والے عوامل، خاص طور پر گزشتہ ایک سال کے دوران، اب خودکار طریقے سے اپنا تسلسل برقرار رکھنے کے قابل ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، بدھ کے روز اسپاٹ سلور (چاندی) کی قیمت 4.5 فیصد گر کر 73.06 ڈالر فی اونس پر آگئی جبکہ پیر کو یہ 83.62 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو چکی تھی۔
رواں سال اب تک چاندی کی قیمت میں 150 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جو سونے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور یہ سال چاندی کی تاریخ کا بہترین سال ثابت ہونے والا ہے۔
اس دھات نے 2025 میں متعدد اہم سنگِ میل عبور کیے، جس کی پشت پناہی اس کے بطور اہم امریکی معدنیات کے تعین، سپلائی میں کمی، کم ذخائر، اور صنعتی و سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب نے کی۔
اس دھات (چاندی) نے 2025 میں کامیابی کے متعدد سنگِ میل عبور کیے، جس کی وجہ اس کا امریکہ کی اہم معدنیات میں شامل ہونا، رسد کی کمی، ذخائر کی پست سطح اور صنعتی و سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب رہی۔
بدھ کو اسپاٹ پلاٹینم کی قیمت 6.1 فیصد گر کر 2,065.80 ڈالر فی اونس پر آگئی، جبکہ پیر کو یہ 2,478.50 ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
اس سال پلاٹینم کی قیمت میں 120 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جو اس کی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
پیلاڈیم کی قیمت 7.1 فیصد گر کر 1,496.75 ڈالر فی اونس ہوگئی تاہم یہ سال 65 فیصد اضافے کے ساتھ ختم کرنے کے لیے تیار ہے، جو گزشتہ 15 سالوں میں اس کی بہترین کارکردگی ہے۔