دنیا

یمن بحران میں سعودی عرب کے ساتھ اختلافات، متحدہ عرب امارات نے باقی ماندہ افواج واپس بلانے کا اعلان کر دیا

  • امارات کا کہنا ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کو رضاکارانہ طور پر واپس بلا رہا ہے
شائع اپ ڈیٹ

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ یمن سے اپنی باقی ماندہ افواج واپس بلا رہا ہے، جب کہ سعودی عرب نے یو اے ای افواج کے 24 گھنٹوں کے اندر انخلا کے مطالبے کی حمایت کی۔ یہ پیش رفت دونوں خلیجی طاقتوں اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل، سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے جنوبی یمن کی بندرگاہ مکلا پر حملہ کیا۔ ریاض کے مطابق یہ فضائی حملہ یو اے ای سے منسلک اسلحہ کی کھیپ کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا اور دونوں خلیجی ریاستوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں اب تک کی سب سے نمایاں کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔

کبھی علاقائی سلامتی کے دو مضبوط ستون سمجھے جانے والے یہ خلیجی ممالک تیل کے کوٹوں سے لے کر جغرافیائی و سیاسی اثر و رسوخ تک متعدد معاملات پر ایک دوسرے سے مختلف راستے اختیار کر چکے ہیں۔

یو اے ای کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس نے رضاکارانہ طور پر انسدادِ دہشت گردی یونٹس کا مشن ختم کر دیا ہے، جو 2019 میں اپنی فوجی موجودگی کے ”اختتام“ کے بعد یمن میں موجود آخری دستے تھے۔

وزارت کے مطابق باقی ماندہ مشن صرف انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے تحت “خصوصی اہلکاروں” تک محدود تھا، جو متعلقہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں کام کر رہے تھے۔

ریاستی خبر رساں ادارے وام کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد صورتحال کا جامع جائزہ لیا گیا۔

یمن میں سعودی عرب اور یو اے ای کے مفادات میں حالیہ برسوں میں اختلاف

سعودی عرب نے یو اے ای پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یمن کی علیحدگی پسند سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ وہ مملکت کی سرحدوں کی جانب پیش قدمی کرے اور اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے ”سرخ لکیر“ قرار دیا ہے۔

یہ ریاض کی جانب سے پڑوسی ملک کے ساتھ بڑھتے اختلافات میں اب تک کا سخت ترین مؤقف ہے۔ دونوں ممالک ماضی میں ایران نواز حوثیوں کے خلاف اتحاد میں شریک تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یمن میں ان کے مفادات واضح طور پر مختلف ہوتے چلے گئے۔

یمن میں موجود چند یو اے ای افواج کے انخلا سے وقتی طور پر کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا یو اے ای ایس ٹی سی کی حمایت جاری رکھے گا یا نہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب نے اپنے زیرِ قیادت اتحاد کے ذریعے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے، اور کابینہ نے امید ظاہر کی ہے کہ یو اے ای ایس ٹی سی کو ہر قسم کی عسکری یا مالی معاونت ختم کر دے گا۔

اتحادی افواج نے اس مقام کو بمباری کا نشانہ بنایا جسے ان کے بقول علیحدگی پسندوں کو غیر ملکی عسکری مدد فراہم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک گھاٹ (ڈاک) کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ یمن کی سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا۔

متحدہ عرب امارات نے کہا کہ وہ اس فضائی حملے پر حیران ہے اور جن کھیپوں کا ذکر کیا جا رہا ہے ان میں اسلحہ شامل نہیں تھا بلکہ وہ اماراتی افواج کے لیے تھیں۔ تاہم یو اے ای نے کہا کہ وہ ایسے حل کا خواہاں ہے “ جو قابلِ اعتماد حقائق اور موجودہ رابطہ کاری کی بنیاد پر کشیدگی کو بڑھنے سے روکے“۔

یمنی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ٹیلی وژن خطاب میں العلیمی نے کہا کہ “یہ بات حتمی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایس ٹی سی پر دباؤ ڈالا اور اسے عسکری کشیدگی کے ذریعے ریاستی اتھارٹی کو کمزور کرنے اور بغاوت پر اکسایا “۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اوپیک کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کے گروپ میں اہم کردار رکھتے ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی اختلاف سے تیل کی پیداوار پر اتفاقِ رائے متاثر ہو سکتا ہے۔

دونوں ممالک اور اوپیک پلس کے دیگر چھ ارکان اتوار کو آن لائن اجلاس کریں گے، اور اوپیک پلس کے مندوبین کے مطابق پہلی سہ ماہی کے لیے پیداوار کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی پالیسی میں توسیع کی جائے گی۔

خلیجی خطے کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔

سعودی اتحادی کا یو اے ای پر یمن میں کشیدگی بڑھانے کا الزام

متحدہ عرب امارات 2015 سے حوثی تحریک کے خلاف سعودی قیادت میں قائم اتحاد کا حصہ رہا۔ 2019 میں اس نے اپنی افواج میں کمی شروع کی، تاہم سعودی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی۔

بعد ازاں ایس ٹی سی نے جنوب میں خود مختاری کی کوشش شروع کی اور اس ماہ سعودی حمایت یافتہ یمنی افواج کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔

اس پیش قدمی نے برسوں سے جاری تعطل کو توڑ دیا، جب کہ ایس ٹی سی نے سعودی انتباہات کو نظرانداز کرتے ہوئے حضرموت صوبے سمیت جنوبی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول کا دعویٰ کیا۔

اتحادی افواج کے مطابق منگل کا فضائی حملہ اس کے بعد کیا گیا جب ہفتے اور اتوار کو یو اے ای کی بندرگاہ فجیرہ سے دو جہاز اتحادی اجازت کے بغیر یمن پہنچے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ادارے نے ایک ویڈیو شائع کی جس میں ایک جہاز دکھایا گیا جس کی شناخت ” گرین لینڈ “ کے نام سے کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ اس سے اسلحہ اور جنگی گاڑیاں اتاری گئیں۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق، رول آن/رول آف کارگو جہاز گرین لینڈ کا رجسٹرڈ مالک اور آپریٹر سالم المکرانی کارگو کمپنی ہے، جس کا صدر دفتر دبئی اور فجیرہ میں شاخ موجود ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

اتحادی افواج نے سعودی سرکاری میڈیا کے حوالے سے کہا کہ حملے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی ضمنی نقصان۔ دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حملہ اسی گھاٹ کو نشانہ بنایا گیا جہاں کارگو اتارا گیا تھا۔

رائٹرز فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ کیا نشانہ بنایا گیا یا جن کھیپوں پر حملہ ہوا ان کی نوعیت اور ماخذ کیا تھا۔

یمنی سرکاری ٹی وی نے ابتدائی اوقات میں بندرگاہ سے اٹھتے سیاہ دھوئیں اور جلی ہوئی گاڑیوں کی فوٹیج دکھائی۔ العلیمی نے 72 گھنٹوں کے لیے فضائی پابندی کے ساتھ ساتھ تمام بندرگاہوں اور گزرگاہوں پر بحری اور زمینی ناکہ بندی کا اعلان کیا۔

ایس ٹی سی کے سربراہ اور صدارتی کونسل کے نائب سربراہ عیدروس الزبیدی نے کونسل کے تین دیگر ارکان کے ساتھ مشترکہ بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات حوثیوں کے خلاف جنگ میں بدستور ایک اہم شراکت دار ہے۔ بیان میں العلیمی کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان پر اتفاقِ رائے موجود نہیں۔