دنیا

سعودی عرب کا قومی سلامتی سے متعلق انتباہ ، متحدہ عرب امارات کی افواج کو یمن چھوڑنے کا حکم

  • یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا
شائع اپ ڈیٹ

سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کو ”ریڈ لائن“ قرار دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی افواج کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی قیادت میں اتحاد نے جنوبی یمن کی بندرگاہ ’مکلا‘ پر فضائی حملہ کیا، جس کا مقصد امارات کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسندوں(ایس ٹی سی) کو ملنے والی فوجی امداد کو روکنا تھا۔

ریاض کی جانب سے ابوظہبی کے خلاف اب تک کی یہ سخت ترین زبان دونوں خلیجی اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے امارات پر یمن میں داخلی خلفشار کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے سدرن ٹرانزیشنل کونسل کو ریاست کے خلاف بغاوت اور فوجی اشتعال انگیزی پر اکسایا ہے۔

کشیدگی کی وجہ اس وقت بنی جب اماراتی بندرگاہ فجیرہ سے دو بحری جہاز سعودی اجازت کے بغیر مکلا پہنچے۔ سعودی اتحاد کے مطابق ان جہازوں نے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر کے علیحدگی پسندوں کے لیے بڑی مقدار میں اسلحہ اور جنگی گاڑیاں اتاریں۔ سعودی میڈیا نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک جہاز سے جنگی سامان اتارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایس ٹی سی کے سربراہ عیدروس الزبیدی نے رشاد العلیمی کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات حوثیوں کے خلاف جنگ میں ایک اہم شراکت دار ہے اور کسی فرد واحد کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی ملک کو عرب اتحاد سے نکال دے۔

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب اتوار کو ’اوپیک پلس کا اجلاس ہونے والا ہے۔ سعودی عرب اور امارات دونوں تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک ہیں، لہٰذا ان کے درمیان کوئی بھی اختلاف عالمی سطح پر تیل کی پیداوار سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ منگل کو اس کشیدگی کے باعث خلیجی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔

رشاد العلیمی نے تمام بندرگاہوں اور سرحدوں پر 72 گھنٹوں کے لیے نو فلائی زون اور بحری و زمینی ناکہ بندی نافذ کر دی ہے۔ یمن کا صوبہ حضرموت، جہاں یہ کارروائی ہوئی سعودی عرب کے لیے تاریخی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور سعودی عرب نے پہلے ہی علیحدگی پسندوں کو اس علاقے میں فوجی نقل و حرکت سے خبردار کیا تھا۔