پاکستان میں پیسہ کون بنا رہا ہے؟
- یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ آج کے دور میں دولت کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ وہی بدعنوانی ہے، جسے قواعد و ضوابط کو سرکاری اہلکاروں سے ملی بھگت کے ذریعے پامال کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے
ملک میں فیکٹریوں کی بندش کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جہاں گزشتہ دو برسوں میں کم از کم 150 کارخانے بند ہو چکے ہیں، جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق باقی ماندہ اکثریتی یونٹس صرف 50 فیصد پیداواری صلاحیت پر کام کر رہے ہیں۔ یہ رجحان ملک میں بے روزگاری میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
صنعتی حلقے ان مشکل حالات کی ذمہ داری خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ پیداواری لاگت پر عائد کرتے ہیں، جن میں شرحِ سود میں کمی کے باوجود قرض لینے کی بلند لاگت (ڈسکاؤنٹ ریٹ 10.5 فیصد تک آنے کے باوجود)، زیادہ ٹیکسز، جن میں اکثریت بالواسطہ ٹیکسوں کی ہے جو بالآخر صارفین پر منتقل ہو جاتے ہیں، اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جاری پروگرام کے تحت مکمل لاگت کی وصولی کے لیے بجلی و گیس پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ شامل ہے۔
زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف یہ امر ہے کہ جب مجموعی حکومتی آمدن کا 75 سے 80 فیصد حصہ بالواسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے، جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے، تو ملک میں غربت کی شرح 42 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جو بعض سب صحارا افریقی ممالک کے برابر ہے۔
اس کے باوجود اس امر کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پاکستان میں دولت کمائی جا رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون سا شعبہ یا کون سا طبقہ یہ دولت سمیٹ رہا ہے؟ اور اتنا ہی اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا آئی ایم ایف کی نہایت سخت شرائط،جن میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور گورننس اصلاحات شامل ہیں، کے نتیجے میں بااثر اشرافیہ کی دولت کمانے پر گرفت کمزور پڑی ہے، یا وہ بدستور اسٹیٹس کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے؟
نجی شعبے سے وابستہ عناصر، بڑے صنعتکار اور بڑے زمیندار، 10 اکتوبر 2024 کو آئی ایم ایف کی جانب سے منظور کیے گئے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے بعد سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ فنڈ نے سابقہ حکومتوں کی جانب سے ان اشرافیہ گروہوں کو دی جانے والی مالیاتی اور زرعی مراعات کو براہِ راست چیلنج کیا ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ” ریاست کی جانب سے کاروباری طبقے کو سبسڈیز، سازگار ٹیکس انتظامات، تحفظ اور سرکاری قیمتوں کے تعین کے ذریعے دی جانے والی معاونت نے ایک متحرک اور برآمدات پر مبنی معیشت کی تشکیل کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس تمام سرپرستی کے باوجود کاروباری شعبہ ترقی کا محرک بننے میں ناکام رہا، جبکہ یہ مراعات بالآخر مسابقت کو کمزور کرنے اور وسائل کو دائمی طور پر غیر مؤثر، بشمول مستقل طور پر ‘نوزائیدہ’ رہنے والی، صنعتوں میں مقید کرنے کا باعث بنیں۔“
بہرحال حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی کے نرخوں میں کمی کی اجازت دینے پر آمادہ کر لیا ہے۔ یہ اتفاقِ رائے اس طریقے سے حاصل کیا گیا کہ 18 کمرشل بینکوں سے 1.25 کھرب روپے قرض لے کر گردشی قرضہ ختم کیا گیا، جس پر سود کی ادائیگیاں موجودہ گردشی قرضے کے مقابلے میں کم ہیں، کیونکہ ڈسکاؤنٹ ریٹ گزشتہ سال 22 فیصد سے کم ہو کر اس وقت 10.5 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ختم کیے گئے گردشی قرضے پر واجب الادا سود صارفین ہی ادا کرتے تھے اور یہی اصول نئے پیدا ہونے والے گردشی قرضے پر بھی لاگو ہوگا۔
تاہم، کسی ممکنہ ناکامی کی صورت میں احتیاطاً آئی ایم ایف نے مئی 2025 کی تاریخ کے حامل ای ایف ایف کے پہلے جائزے میں ایک شرط شامل کی ہے، جس کے مطابق “ اسی تناظر میں مالی سال 2026 کے پہلے نصف کے لیے گردشی قرضے کے اہداف کم رکھے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ اس اقدام اور دیگر اصلاحات کے نتیجے میں گردشی قرضے کا بہاؤ مالی سال 2031 میں اس آپریشن (سکوک کی واپسی) کے اختتام تک مسلسل کم ہوتا رہے گا، اور اس کے ساتھ بجلی کے لیے بجٹ میں رکھی جانے والی سبسڈی کی ضرورت بھی گھٹتی جائے گی، جس کا ایک تہائی حصہ اس وقت گردشی قرضے کے اسٹاک کو ختم کرنے کے لیے مختص ہے۔ محدود مالی گنجائش کے پیشِ نظر یہ نہایت ضروری ہے کہ اس آپریشن کی تمام ادائیگیاں مکمل طور پر موجودہ ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) سے ہی پوری کی جائیں۔
اگرچہ توقع ہے کہ ڈی ایس ایس کی آمدن ادائیگیوں کے لیے کافی ہوگی، تاہم حکام کو لازم ہوگا کہ وہ ڈی ایس ایس پر عائد موجودہ حد (جون 2025 کے اختتام تک نیا اسٹرکچرل بینچ مارک) ختم کریں، تاکہ اگر کسی بھی کمی کا سامنا ہو تو ڈی ایس ایس میں بروقت ردوبدل کر کے ادائیگیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
ای ایف ایف کے دوسرے جائزے میں حکومت نے آئی ایم ایف کو شوگر اور گندم کے ذیلی شعبوں کی ڈی ریگولیشن کی حمایت پر آمادہ کر لیا۔
ڈی ریگولیشن عالمگیریت کے حامی حلقوں کا ایک بنیادی نعرہ ہے، جس کی آئی ایم ایف تائید کرتا ہے، تاہم اسے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔ ڈی ریگولیشن کی مؤثر عملداری کے لیے مکمل مسابقتی منڈی درکار ہوتی ہے، جہاں خریداروں اور فروخت کنندگان کی بڑی تعداد ہو اور کوئی ایک فریق قیمت پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ پاکستان میں شوگر اور گندم کی منڈیاں اس معیار پر پورا نہیں اترتیں، کیونکہ یہ طاقتور خاندانوں اور گروہوں کے زیرِ اثر ہیں۔ ایسے میں ڈی ریگولیشن کا نتیجہ مزید ملی بھگت کی صورت میں نکل سکتا ہے، جو عام آدمی کے مفاد کے خلاف ہو گا۔
امیر زمینداروں پر زرعی آمدن ٹیکس عائد کرنا بھی آئی ایم ایف کی ایک شرط تھی، جسے صوبوں نے جنوری 2025 سے نافذ کرنا تھا اور جس کی وصولی یکم جولائی 2025 سے ہونا تھی۔
چاروں صوبوں نے اس مد میں بجٹ میں نہایت معمولی رقم رکھی، اور تشویشناک امر یہ ہے کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ جولائی تا ستمبر 2025-26 کے لیے وفاقی و صوبائی مالیاتی کارکردگی کی یکجا رپورٹ میں اس ٹیکس کے تحت کسی وصولی کا کوئی اندراج موجود نہیں۔
صوبائی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بدستور وفاقی حکومت کی جانب سے قابلِ تقسیم محاصل سے منتقل ہونے والی رقوم ہیں۔ اس ضمن میں سندھ کی کارکردگی مسلسل پنجاب اور دیگر دو صوبوں سے بہتر رہی ہے، کیونکہ وہ اپنے وسائل سے نسبتاً زیادہ آمدن پیدا کرتا ہے۔ البتہ خیبر پختونخوا کی کارکردگی انضمام شدہ اضلاع کے باعث متاثر ہے، جبکہ بلوچستان طویل المدتی شورش اور غربت کے باعث مالی مشکلات سے دوچار ہے۔
چاروں صوبوں نے اپنے وسائل سے درج ذیل رقوم بجٹ میں رکھی ہیں:
(الف) سندھ ، اپنے ٹیکسوں پر انحصار 31 فیصد، یعنی 135,469 ملین روپے جبکہ وفاقی منتقلیاں 441,556 ملین روپے؛
(ب) پنجاب، اپنے ٹیکسوں پر انحصار 12.36 فیصد، یعنی 109,072 ملین روپے جبکہ وفاقی منتقلیاں 882,326 ملین روپے؛
(ج) خیبر پختونخوا، اپنے ٹیکسوں پر انحصار 51.23 فیصد، یعنی 15,880 ملین روپے جبکہ وفاقی منتقلیاں 287,147 ملین روپے؛
(د) بلوچستان، اپنے ٹیکسوں پر انحصار 5.1 فیصد، یعنی 8,492 ملین روپے جبکہ وفاقی منتقلیاں 164,258 ملین روپے۔
صوبائی ترقیاتی پروگرام، وفاقی پروگراموں کی طرح، بااثر افراد کے لیے ٹھیکوں کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں، جہاں وسیع وفاقی و صوبائی کابینہ کے ارکان سے قربت، اقرباپروری اور کمیشن کلچر نمایاں ہے۔
ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کو طویل عرصے سے کالا دھن سفید کرنے کا اہم ذریعہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے، اور حکومت کو آئی ایم ایف کی جانب سے اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے دباؤ کا سامنا رہا۔
اس وقت ریئل اسٹیٹ سرگرمیاں انتہائی جمود کا شکار ہیں، کیونکہ حکومت نے درج ذیل ٹیکس اقدامات متعارف کرائے، جن کا مقصد حقیقی گھریلو خریداروں کو سہولت دینا (جو بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت کے باعث خود محدود ہو گیا ہے) اور قلیل مدتی سٹے بازی، بالخصوص نان فائلرز کی حوصلہ شکنی تھا:
(الف) خریداروں کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس مختلف سلیبز میں 4 فیصد سے کم کر کے زیادہ سے زیادہ 2.5 فیصد کر دیا گیا؛(ب) فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر دی گئی، جو پہلے 7 فیصد تک تھی؛ (ج) فروخت کنندگان کے لیے 50 ملین روپے تک کی جائیداد پر ودہولڈنگ ٹیکس 3 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کر دیا گیا۔
ان اقدامات کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا کہ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہو گئی۔
تو پھر پیسہ کون کما رہا ہے؟ وہ 7 فیصد طبقہ جس کی تنخواہیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادا ہوتی ہیں اور جو براہِ راست عوام سے واسطہ رکھتا ہے، رشوت کے ذریعے۔ زیادہ محتاط اور علمی زبان میں اسے کمزور ادارہ جاتی ڈھانچہ، معاشی عدم مساوات، کم اجرتیں، احتساب کی کمی (جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی ملی بھگت شامل ہے)، اور شفافیت و جوابدہی کے فقدان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
آئی ایم ایف کی دستاویزات میں درج ہے کہ ” ادارہ جاتی سطح کے خطرات کی بنیاد پر، قومی احتساب بیورو ان دس اداروں میں موجود کمزوریوں کے تدارک کے لیے ایکشن پلانز کی تیاری کی قیادت اور ہم آہنگی کرے گا، جنہیں سب سے زیادہ خطرات کا حامل قرار دیا گیا ہے (اب اکتوبر 2026 کا اسٹرکچرل بینچ مارک)۔“
بزنس ریکارڈر کی جانب سے بارہا ان دس اداروں کی نشاندہی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو خاموشی کا سامنا رہا، جس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ آج کے دور میں دولت کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ وہی بدعنوانی ہے، جسے قواعد و ضوابط کو سرکاری اہلکاروں سے ملی بھگت کے ذریعے پامال کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025