پاکستان

ملک کا پہلا اور منفرد سہولت آن دی گو بازار عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا

  • پنجاب میں شہریوں کو معیاری اور سستی اشیا دستیاب ہیں جبکہ اس اقدام کے ذریعے ریڑھی بانوں کو باعزت روزگار فراہم کیا جارہا ہے
شائع December 29, 2025 اپ ڈیٹ December 29, 2025 08:10pm

پنجاب میں ملک کا پہلا اور منفرد سہولت آن دی گو بازار عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا جہاں شہریوں کو معیاری اور سستی اشیا دستیاب ہیں جبکہ اس اقدام کے ذریعے ریڑھی بانوں کو باعزت روزگار فراہم کیا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر شروع کیے گئے اس اقدام کا مقصد شہریوں کو سستی اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور اسٹریٹ وینڈرز کیلئے منظم اور باعزت کاروباری ماحول یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ریڑھی بانوں کو 400 سے زائد اسٹالز اوپن قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹ کیے گئے ہیں جس سے وہ باقاعدہ دکاندار بن گئے ہیں۔

لاہور میں پہلے مرحلے کے تحت دس مقامات پر سہولت آن دی گو بازار قائم کیے گئے ہیں جن میں گلشنِ راوی، شادمان، مادرِ ملت، مدینہ مارکیٹ، ٹاؤن شپ، سندر روڈ، کوٹھا پنڈ فیصل ٹاؤن شامل ہیں جبکہ کھاڑک نالہ، اعوان ٹاؤن، ویلنشیا اور شاہدرہ میں بھی سہولت آن دی گو بازار فعال ہیں۔

ان بازاروں میں پھل، سبزیاں، چکن اور کریانہ کی اشیا ڈی سی ریٹس پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ سہولت آن دی گو بازار میں سکیورٹی، واش روم اور صفائی کا بہترین انتظام کیا گیا ہے جبکہ ڈرائیو تھرو خریداری کی سہولت بھی موجود ہے۔

حکام کے مطابق فروری تک لاہور میں مزید پانچ مقامات پر سہولت آن دی گو بازار فنکشنل کیے جائیں گے جبکہ برکی، صدر، نشتر ٹاؤن، رائے ونڈ فیز ٹو، فیصل ٹاؤن، مون مارکیٹ اور فیروز والا میں منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

ریڑھی بانوں اور دکانداروں نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ ریڑھی والے نہیں بلکہ اپنی دکان کے باقاعدہ مالک بن چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے کھڑے ہونے کے بجائے انہیں مستقل چھت میسر آ گئی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ سہولت آن دی گو بازار قائد محمد نواز شریف کے کلین اور خوبصورت لاہور کے وژن کا حصہ ہے، حقیقی ترقی وہی ہے جس میں ہر غریب محنت کش بھی مستفید ہو اور ایسے منصوبے لاہور سمیت پنجاب بھر میں مرحلہ وار متعارف کرائے جائیں گے۔

چیئرمین پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کے مطابق سہولت آن دی گو بازار کے قیام سے رمضان بازاروں میں دی جانے والی سبسڈی کی ضرورت بھی کم ہوگی اور عوام کو سستی اشیا سال بھر دستیاب رہیں گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025