کاروبار اور معیشت

نیا سرمایہ پی آئی اے کے مسائل حل کرنے میں مدد دے گا، عارف حبیب

پہلے مرحلے میں ایئر لائن کے فضائی بیڑے کو 38 طیاروں تک بڑھایا جائے گا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پرائیویٹائزیشن کو پاکستان کے لیے کامیابی قرار دیتے ہوئے معروف صنعت کار اور عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو عارف حبیب نے منگل کو کہا کہ یہ معاہدہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں مدد فراہم کرے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہموار کرے گا۔

نجکاری کے عمل کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے ایک شاندار ماضی اور مضبوط وراثت کی حامل ہے اور اس کے پاس ہنرمند افرادی قوت موجود ہے جو تازہ سرمائے کی فراہمی کے بعد ادارے کی کایا پلٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ایک شاندار ماضی کی حامل رہی ہے اور کسی دور میں اسے دنیا کی دوسری بہترین ایئر لائن کا درجہ حاصل تھا۔ اس کے بہت سے ملازمین انتہائی باصلاحیت ہیں اور اپنے کام کی گہری سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی سرمایہ کاری کی آمد ایئر لائن کے طویل مدتی عملی اور مالیاتی چیلنجز کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ یہ نیا سرمایہ ایئر لائن کے مسائل حل کرنے میں مدد دے گا۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب منگل کو عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی سربراہی میں قائم ایک کنسورشیم پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے 75 فیصد حصص کی خریداری کے لیے کامیاب بولی دہندہ کے طور پر ابھرا۔ اس کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی جمع کرائی، جو کہ حکومت کی مقرر کردہ ابتدائی کم از کم قیمت (100 ارب روپے) اور اس بنیادی قیمت (115 ارب روپے) سے نمایاں طور پر زیادہ تھی جس پر نیلامی کے عمل کا آغاز ہوا تھا۔

عارف حبیب نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ایئر لائن کے فضائی بیڑے کو 38 طیاروں تک بڑھایا جائے گا، جس کے بعد اگلے مرحلے میں اسے مزید توسیع دیتے ہوئے 65 طیاروں تک لے جایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ طلب کے مطابق ہم طیاروں کی تعداد میں اضافہ کریں گے۔

عارف حبیب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بحالی کے عمل میں ملازمین کے اعتماد کی اہمیت ہے اور موجودہ عملے کی مہارت کو مکمل طور پر استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملازمین کو اعتماد دیں گے اور ان کی مہارت سے مکمل فائدہ اٹھائیں گے۔ توسیع کے ساتھ مزید افراد کے لیے کام کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔