کاروبار اور معیشت

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ٹریڈ ڈپلومیسی میں ناقص کارکردگی پر سخت تنقید

کمیٹی اراکین کی پاکستان کے سفارتی مشنز میں متعدد اہم انتظامی اور پالیسی چیلنجز کی نشاندہی
شائع اپ ڈیٹ

ملک کی تجارتی سفارت کاری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک پارلیمانی کمیٹی نے بیرونِ ملک تعینات پاکستان کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلرز کی ناقص کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کمیٹی نے ان سفارت کاروں کے غیر ملکی منڈیوں کے ساتھ رابطے اور کام کرنے کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔

حنا ربانی کھر کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے پاکستان کی موجودہ تجارتی سفارت کاری کا سخت جائزہ پیش کیا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اہم حکام بین الاقوامی سطح پر ملک کے اقتصادی اور تجارتی مفادات کو آگے بڑھانے میں ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، پینل کے مطابق، ان کی کوششیں اب تک توقعات پر پوری نہیں اتر سکی ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرپرسن حنا ربانی کھر کی صدارت میں ہوا، جس میں بیرونِ ملک پاکستان کے سفارتی مشنز سے متعلق اہم پالیسی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے پاکستان کے سفارتی مشنز میں متعدد اہم انتظامی اور پالیسی چیلنجز کی نشاندہی کی۔

کمیٹی نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر اس کی مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی ہنر مند عملے کی اشد ضرورت ہے۔

ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلرز کے لیے جامع تربیت، کیریئر کی ترقی کے واضح مواقع اور کارکردگی کے سخت جانچ پڑتال کے نظام کی ضرورت پر مکمل اتفاقِ رائے پایا گیا۔

کمیٹی نے یہ دلیل دی کہ یہ اقدامات سفارتی عملے کو ایک غیر فعال وجود سے ایک ایسی متحرک قوت میں بدل دیں گے جو عالمی تجارت کی پیچیدگیوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہوگی۔

آپریشنز کو ہموار کرنے اور سفارتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اراکین نے پاکستان کے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) میں مشن کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے مستقل مشن کے ساتھ ضم کرنے کی تجویز بھی دی۔

یہ تجویز عالمی تجارت کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی روشنی میں پیش کی گئی ہے، جس کا مقصد زیادہ مربوط اور لچکدار سفارتی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔

کمیٹی نے پاکستان کے سفارتی انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے) کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی۔ اس وقت مہنگی کرائے کی جائیدادوں پر انحصار کرنے کے باعث، پینل نے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی عمارتوں کو کرائے سے اپنی ملکیت میں منتقل کرنے کی دیرینہ تجاویز پر دوبارہ غور کیا۔

کمیٹی اراکین کے مطابق یہ اقدام کرایہ کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنے اور طویل مدتی، پائیدار آپریشنز کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

بحالی اور مرمت کے اخراجات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے، کمیٹی نے متبادل مالیاتی ماڈلز، بشمول طویل مدتی مارگیج کے امکانات کو تلاش کرنے کی سفارش کی۔

اپنے اختتامی کلمات میں حنا ربانی کھار نے پاکستان کے سفارتی مشنز میں اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا، سفارت کاری کے پیشہ ورانہ معیار کو فروغ دینے اور ملکی طویل مدتی اسٹریٹجک مفادات کی بہتر عکاسی کے لیے خارجہ پالیسی کی ازسرنو ترتیب کی ضرورت پر زور دیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025