بنگلہ دیش میں سخت سیکورٹی کے دوران مقتول نوجوان رہنما کی سرکاری سطح پر تدفین
- آج ہم آپ (ہادی) سے یہ وعدہ کرنے آئے ہیں کہ جن مقاصد کے لیے آپ کھڑے تھے، ہم انہیں پورا کریں گے، عبوری سربراہ محمد یونس کا خطاب
سخت سکیورٹی کے انتظامات کے تحت ہفتے کے روز مقتول نوجوان رہنما اور انتخابی امیدوار کی تدفین میں لاکھوں بنگلہ دیشی سوگواروں نے شرکت کی، جن میں ملک کی عبوری حکومت کے سربراہ بھی شامل تھے۔
32 سالہ شریف عثمان ہادی، جو گزشتہ برس طلبہ کی قیادت میں ہونے والی اس تحریک کے نمایاں رہنما تھے جس نے طویل عرصے سے برسرِاقتدار وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا، گزشتہ ہفتے ڈھاکا میں فروری میں متوقع انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم کے آغاز کے دوران نقاب پوش حملہ آوروں کی فائرنگ سے سر میں گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔ وہ چھ دن تک لائف سپورٹ پر رہنے کے بعد جمعرات کو سنگاپور میں انتقال کر گئے۔
ان کے قتل کے بعد جنوبی ایشیائی ملک میں بدامنی کی لہر دوڑ گئی، جس کے دوران بڑے اخبارات اور ثقافتی اداروں پر منظم ہجوم نے حملے بھی کیے۔
ہفتے کے روز تدفین کے موقع پر دارالحکومت بھر میں پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے تھے، تاہم کسی نئی پرتشدد کارروائی کی اطلاع نہیں ملی۔
عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا کہ ہادی کی وراثت برقرار رہے گی، اور تدفین کو اُن نظریات کی پاسداری کے لیے ایک اجتماعی عہد قرار دیا جن کی وہ نمائندگی کرتے تھے۔
نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس نے سوگواروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، جن میں بنگلہ دیش کے آرمی چیف اور مختلف سیاسی حلقوں کے نمائندے بھی شامل تھے، آج ہم آپ (ہادی) سے یہ وعدہ کرنے آئے ہیں کہ جن مقاصد کے لیے آپ کھڑے تھے، ہم انہیں پورا کریں گے۔
ایک غیر معمولی اور علامتی اعزاز کے طور پر ہادی کو ڈھاکا یونیورسٹی کے احاطے میں قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کی قبر کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔
بنگلہ دیش کے عوام کو امید ہے کہ انتخابات برسوں کی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کریں گے
بنگلہ دیش 12 فروری کو نیا پارلیمان منتخب کرنے جا رہا ہے، ایک ایسا مرحلہ جس سے ساڑھے 17 کروڑ آبادی والے اس مسلم اکثریتی ملک کو تقریباً دو سال کی عدم استحکام کی صورتحال سے نکل کر ایک علاقائی کامیابی کی مثال کے طور پر اپنی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے یونس کی عبوری حکومت کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے اور دنیا میں چین کے بعد دوسرے سب سے بڑے ملبوسات تیار کرنے والے ملک میں ان کی حکمرانی کی گرفت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
حکومت نے ہفتے کے روز ہادی کے لیے سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان کیا اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ انتہا پسند عناصر کی جانب سے ہجوم کی پرتشدد کارروائیوں سے بچیں، جبکہ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بدامنی بنگلہ دیش کے نازک جمہوری عمل کی منتقلی کے مرحلے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ہادی کے قتل کو ایک انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیا اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک میں حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد پھیلنے والی تشدد کی لہر کو روکنے کے لیے اقدام کرے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے میڈیا پر حملوں کی بھی مذمت کی اور اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا ہے۔
عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں بنگلہ دیش 180 ممالک میں 149 ویں نمبر پر ہے۔ حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور کارکنان پر مسلسل حملے انتخابات سے پہلے شہری آزادیوں کو مزید محدود کر سکتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہادی کے قتل اور بعد میں ہونے والے تشدد، بشمول اخبارات کے دفاتر کو جلانا اور صحافیوں کی ہراسانی، کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
جمعہ کو دارالحکومت کے شاہ باغ علاقے میں مظاہرے جاری رہے، جہاں ہجوم نے ہادی کے لیے انصاف اور حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف احتساب کا مطالبہ کیا۔ ایک ہجوم نے بنگلہ دیش کی ممتاز ترقی پسند ثقافتی تنظیم، اُدیچی شِلپی گوستھی کے ڈھاکا دفتر پر دھاوا بھی بول دیا۔
تشدد اب دارالحکومت سے باہر بھی پھیل گیا ہے۔ چٹاگانگ میں مظاہرین نے بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن پر حملہ کیا، جو شیخ حسینہ کی برطرفی کے نتیجے میں نئی دہلی فرار کے بعد بڑھتی ہوئی بھارت مخالف جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔
شیخ حسینہ کی پارٹی، عوامی لیگ، جسے انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا ہے، نے نقص امن کی دھمکی دی ہے، جس سے بعض حلقوں کو خدشہ ہے کہ یہ ووٹ کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔