وزیرِ اعظم کا آسٹریلیا کے ساتھ تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات بڑھانے پر زور
- زراعت اور لائیو اسٹاک شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور آسٹریلیا کے تعلقات کے مثبت رخ کا خیرمقدم کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
ان خیالات کا اظہار وزیرِ اعظم نے آسٹریلیا کے نئے تعینات ہونے والے ہائی کمشنر ٹم کین سے ملاقات کے دوران کیا۔ شہباز شریف نے کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں آسٹریلوی دلچسپی کا بھی خیرمقدم کیا اور ریکوڈک منصوبے کو پاکستان میں اس شعبے کی بے پناہ صلاحیت کی روشن مثال قرار دیا۔
پرائم منسٹر آفس کے مطابق وزیراعظم نے ہائی کمشنر کو تقرری پر مبارکباد دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی تعیناتی سے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 14 دسمبر 2025 کو سڈنی کے بونڈائی بیچ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی بلاامتیاز مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے دکھ کی اس گھڑی میں آسٹریلیا کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس کی ہر شکل اور صورت میں مذمت کی جانی چاہیے جبکہ اس لعنت کے خاتمے کے لیے اجتماعی کارروائی ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کرکٹ کے لیے دونوں اقوام کے مشترکہ جذبے سمیت پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مضبوط روابط اور ثقافتی رشتوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے آسٹریلوی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کے منتظر ہیں۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹم کین نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے.