پاک افغان سرحدی بندش، چمن کے تاجروں کی اقتصادی نقصانات کی نشاندہی
چمن کے تاجروں اور کاروباری رہنماؤں نے جمعہ کو وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے ملاقات کے دوران پاک افغان سرحد کی بار بار بندش کے معاشی اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے چمن ڈسٹرکٹ کے رہنماؤں، تاجروں، اور کمیونٹی نمائندوں بشمول چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس منعقد کیا جس میں سرحد پار تجارت سے متعلقہ مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں چمن کے مقام پر پاک افغان سرحدی گزرگاہ کی بار بار اور طویل بندش سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اسٹیک ہولڈرز نے ان بندشوں کے شدید سماجی و معاشی اثرات پر روشنی ڈالی، جن میں تاجروں کے مالی نقصانات، جلد خراب ہونے والی اشیاء کی برآمدات میں رکاوٹیں، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، اور مقامی آبادی کو درپیش مشکلات شامل ہیں جو کہ سرحد پار تجارت پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو بغور سنا اور یقین دلایا کہ وزارتِ تجارت سرحدی تجارت سے متعلق امور کے حل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چمن کے عوام اور تاجر برادری کو درپیش مسائل حل کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ سرحد کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ مجموعی حکومتی پالیسی کے تحت کیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ صرف وزارتِ تجارت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، تاہم وزارتِ تجارت قانونی اور جائز تجارت کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں اٹھائے گئے نکات کو متعلقہ قومی اداروں اور مناسب دوطرفہ فورمز پر اٹھایا جائے گا تاکہ سکیورٹی تقاضوں اور قانونی تجارت کے فروغ کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے شفاف، قابلِ پیش گوئی اور مؤثر سرحدی انتظامی نظام تشکیل دیا جا سکے۔
وفاقی وزیر تجارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سرحدی تجارت سے متعلق چیلنجز کے حل اور چمن کے عوام و تاجر برادری کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے گی۔