بنگلہ دیش، طلبہ تحریک کے رہنما عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے, پولیس اور فوج تعینات
- 32 سالہ شریف عثمان ہادی نے سال 2024 میں اس طالب علم تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا
بنگلہ دیش میں ایک مقبول نوجوان رہنما کی ہلاکت کے خلاف رات بھر ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد، جمعہ کو پولیس اور نیم فوجی دستے ڈھاکا اور دیگر شہروں میں تعینات کردیے گئے۔ ملک میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات جن میں وہ رہنما حصہ لینے والے تھے، اس سے قبل مزید بدامنی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
صبح کے وقت سڑکوں پر خاموشی تھی لیکن مسلم اکثریتی جنوبی ایشیائی ملک کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ پریشان ہیں کہ آج بعد از نمازِ جمعہ دوبارہ تشدد پھوٹ سکتا ہے۔
32 سالہ شریف عثمان ہادی انقلاب منچہ یا پلیٹ فارم فار ریولوشن کے ترجمان اور ایک معروف نوجوان رہنما تھے۔ انہوں نے گزشتہ سال (2024 میں) ہونے والے اس طالب علم تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
گزشتہ جمعہ کو ڈھاکا میں انتخابات کے لیے اپنی مہم کا آغاز کرتے وقت، نقاب پوش حملہ آوروں نے ان کے سر میں گولی مار دی تھی۔
ہادی کا ابتدائی علاج مقامی اسپتال میں کیا گیا جس کے بعد انہیں جدید طبی امداد کے لیے فضائی راستے سے سنگاپور منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ چھ روز تک لائف سپورٹ (وینٹی لیٹر) پر رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔
ہادی بھارت کے سخت ناقد تھے اور انقلاب منچہ اپنی ویب سائٹ پر خود کو ’بغاوت کے جذبے سے متاثر ایک انقلابی ثقافتی پلیٹ فارم‘ کے طور پر بیان کرتے تھے۔
ڈھاکہ میں جمعرات کی رات سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو ملک کے سب سے بڑے روزنامہ اخبارکے دفاتر کو نقصان پہنچاتے ہوئے دکھایا گیا۔
مظاہروں کے دوران ہادی کے نام کے جذباتی نعرے لگائے گئے، جہاں مظاہرین نے اپنی تحریک جاری رکھنے کا عہد کیا اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔ کئی علاقوں میں صورتحال کشیدہ رہی، جہاں مزید تشدد کو روکنے کے لیے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
فائر سروس کا کہنا ہے کہ ’دی ڈیلی اسٹار‘ کے دفتر میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ موقع پر فوج تعینات کر دی گئی تھی اور فائر فائٹرز نے عمارت کے اندر پھنسے ہوئے صحافیوں کو بحفاظت نکال لیا۔