آئی ایم ایف نے پاکستان پر 11 نئی اسٹرکچرل بینچ مارکس عائد کردیں
- 3 سے 5 سالہ جامع ٹیکس اصلاحاتی حکمت عملی کی تیاری و اشاعت، اعلیٰ وفاقی سول سرونٹس کے اثاثہ جات کی تفصیلات عوام کے سامنے لانا، اور مخصوص محکموں میں کرپشن کے خطرات کم کرنے کے لیے عملی منصوبہ شامل ہے
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) نے پاکستان پر 11 نئی اسٹرکچرل بینچ مارکس عائد کردی ہیں جن میں 3 سے 5 سالہ جامع ٹیکس اصلاحاتی حکمت عملی کی تیاری و اشاعت، اعلیٰ وفاقی سول سرونٹس کے اثاثہ جات کی تفصیلات عوام کے سامنے لانا، اور مخصوص محکموں میں کرپشن کے خطرات کم کرنے کے لیے عملی منصوبہ شامل ہے۔ یہ تفصیلات فنڈ کی جاری کردہ رپورٹ میں شامل ہیں جو توسیعی فنڈ سہولت اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹینیبلٹی فسیلٹی کے تحت دوسرے جائزے سے متعلق ہے۔
رپورٹ کے مطابق 13 میں سے 8 اسٹرکچرل بینچ مارکس پر عمل ہوا۔ ان میں مالی سال 2026 کا بجٹ پروگرام اہداف کے مطابق منظور کرنا، زرعی آمدنی ٹیکس کا نفاذ، اور سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم شامل ہے جس کے ذریعے اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کی شفافیت بڑھانے کا اقدام کیا گیا۔
آئی ایم ایف نے مجموعی طور پر 11 نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس مقرر کیے ہیں۔ مالیاتی شعبے میں حکومت کو دسمبر 2025 تک ایک تفصیلی روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس میں اصلاحات کی ترجیحات، عمل درآمد کی ٹائم لائن، اسٹاف کی ضروریات، ریونیو تخمینے اور کارکردگی کے اشاریے شامل ہوں۔ مارچ 2026 تک اس روڈ میپ کے تحت ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق اقدامات مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح دسمبر 2026 تک 3 سے 5 سالہ ٹیکس اصلاحاتی حکمت عملی کی تیاری اور اشاعت بھی ضروری بنادی گئی ہے۔
گورننس سے متعلق بینچ مارکس میں دسمبر 2026 تک اعلیٰ سول سرونٹس کے اثاثوں کی تفصیلات سرکاری ویب سائٹ پر شائع کرنے اور اکتوبر 2026 تک متعلقہ محکموں میں کرپشن کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عملی منصوبہ جاری کرنا شامل ہے۔
مانیٹری اور فنانشل سیکٹر سے متعلق ہدایات میں مئی 2026 تک ترسیلات زر کے اخراجات اور سرحد پار ادائیگیوں میں رکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ مکمل کرنے اور زرمبادلہ کی پائیدار آمد بڑھانے کے لیے منصوبہ تیار کرنا شامل ہے۔ اسی طرح ستمبر 2026 تک مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کی بہتری کے لیے رکاوٹوں کا مطالعہ اور حکمت عملی کی اشاعت بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں حکومت کو دسمبر 2026 تک حیسکو اور سیپکو میں نجی شعبے کی شمولیت سے متعلق شرائط کو حتمی شکل دینا ہوگی تاکہ تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے۔ سرکاری اداروں سے متعلق بینچ مارکس میں یہ شرط شامل ہے کہ جون 2026 تک سات بڑے پبلک سروس اداروں کے ساتھ عوامی سروس ذمہ داریوں سے متعلق معاہدے طے کیے جائیں تاکہ شفافیت اور اخراجات کی درست لاگت کا تعین ہوسکے۔
تجارت، سرمایہ کاری اور ڈی ریگولیشن سے متعلق اہداف میں حکومت کو شوگر مارکیٹ کی لبرلائزیشن کے لیے قومی پالیسی کی منظوری، کمپنیز ایکٹ میں ترامیم کی تیاری، اور خصوصی اقتصادی زونز ایکٹ میں مجوزہ اصلاحات پر کونسیپٹ نوٹ شائع کرنا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلسل بینچ مارکس پر بھی عمل کیا گیا جن میں بغیر منظوری اضافی اخراجات سے گریز اور انٹر بینک و اوپن مارکیٹ کے نرخوں کے فرق کو محدود رکھنا شامل ہے۔ کچھ بینچ مارکس تاخیر کا شکار ہوئے جنہیں نئی تاریخوں کے ساتھ دوبارہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ چند اہداف موسمی اور انتظامی وجوہات کے باعث مکمل نہ ہوسکے۔
آئی ایم ایف نے بتایا کہ پاکستان نے کاربن لیوی اور الیکٹرک وہیکل سبسڈی کے منصوبے کامیابی سے نافذ کیے ہیں۔ حکام نے یقین دلایا کہ بقیہ اصلاحات بھی نئی متعین شدہ مدت میں مکمل کی جائیں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025