ڈرائیورز کی گرفتاری ، ٹرکوں کی ضبطگی کیخلاف کارگو ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال شروع
- پورے ملک میں درآمدی اور برآمدی سامان کی بندرگاہوں سے فیکٹریوں تک اور واپس نقل و حرکت روک دی ہے ، ٹرانسپورٹرز کا دعویٰ
کارگو ٹرانسپورٹرز نے جمعرات کو ڈرائیوروں کی گرفتاری اور پرانے ٹرک و ٹریلرز کی ضبطی کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے پہیہ جام ہڑتال کا آغاز کر دیا۔ ٹرانسپورٹرز نے ملک بھر میں درآمدی اور برآمدی سامان کی نقل و حرکت روک دی ہے، جس کے طویل رہنے سے ملکی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
چیئرمین پورٹ قاسم (ٹی جی اے)حماس خان لوہڑی نے کہا ہے کہ پولیس ان کے غیر لائسنس یافتہ مگر تربیت یافتہ ڈرائیوروں کو گرفتار کر رہی ہے اور 20-30 سال پرانے ٹرک و ٹریلرز ضبط کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر پنجاب میں کارروائیں ہورہی یہں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے قوانین ناقابل قبول ہیں اور تب تک کارگو آپریشنز دوبارہ شروع نہیں ہوں گے جب تک یہ قوانین واپس نہیں لیے جاتے۔
حماس لوہڑی نے الزام عائد کیا کہ حکومتی پالیسی میں ڈرائیوروں سے رشوت طلب کی جاتی ہے، جبکہ وہ ڈرائیونگ ٹیسٹ کے ذریعے لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے پاس پورے ملک میں 4,000 سے زائد گاڑیاں ہیں۔ ٹی سی اے ،ٹی جی اے اور کے ڈبلیو اے نے مل کر حکومت سے مطالبات منظور کرانے کا عزم کیا ہے۔
نام نہ ظاہر کرنے والے کراچی پورٹ ٹرسٹ اہلکار کے مطابق جمعرات دوپہر تک کراچی کی بندرگاہ پر کارگو کی نقل و حرکت میں کوئی سست روی نہیں آئی۔ سابق چیئرمین پی ٹی ایف آصف محمود نے کہا کہ یہ ہڑتال تاریخی اور کامیاب ہوگی، کیونکہ ڈرائیوروں نے خود مطالبہ کیا ہے۔
ماہر نجيب بلاگم والا نے حکومت سے اپیل کی کہ ہڑتال ختم کرائی جائے، کیونکہ روزانہ تقریباً 1.5 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور گزشتہ 10 سال میں مجموعی نقصان 76 کروڑ ڈالر بنتا ہے۔