پارلیمنٹ کے ساتھ انتخابی عمل پر بات چیت کی ہے، امریکہ دبائو نہ ڈالے، یوکرینی صدر
- تین ماہ کے اندر انتخابات کرانے کے لیے تیار ہوں،زیلنسکی
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے یوکرائن کی پارلیمنٹ کے ساتھ انتخابی عمل سے متعلق قانونی اور دیگر امور پر بات چیت کی اور دیگر ممالک، بشمول امریکہ، سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر دباؤ نہ ڈالیں۔
زیلنسکی نے منگل کو کہا تھا کہ وہ تین ماہ کے اندر انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں اگر امریکہ اور یوکرین کے دیگر اتحادی ووٹ کی سلامتی کو یقینی بنا سکیں۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے ردعمل میں آیا کہ یوکرین کی حکومت جنگ کو انتخابات سے گریز کے لیے بہانہ بنا رہی ہے۔
اپنی رات کی ویڈیو تقریر میں زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اراکین کے ساتھ معنی خیز اور مفصل بات چیت کی ہے اور انہوں نے کہا کہ وہ یوکرین کے خلاف کسی قیاس آرائی کی اجازت نہیں دیں گے۔
زیلنسکی نے کہا اگر ہمارے شراکت دار، بشمول واشنگٹن میں ہمارے اہم شراکت دار، یوکرائن میں انتخابات، اور مارشل لا کے تحت انتخابات کے بارے میں اتنی تفصیل سے بات کرتے ہیں تو ہمیں ہر سوال اور شبہ کا قانونی یوکرینی جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دباؤ کا سامنا کرنا آسان نہیں، اور انہیں توقع ہے کہ پارلیمنٹ کے اراکین اپنے خیالات پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کے چیلنجز شراکت داروں، خصوصاً امریکہ، پر منحصر ہیں جبکہ سیاسی اور قانونی چیلنجز یوکرین کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
یوکرین میں جنگ کے دوران انتخابات منع ہیں، لیکن زیلنسکی، جن کی مدت گزشتہ سال ختم ہوئی، ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ انتخابات کرانے کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ روسی صدر ولادیمر پوٹن نے طویل عرصے سے زیلنسکی کو غیر قانونی مذاکراتی پارٹنر قرار دیا ہے کیونکہ انہوں نے انتخابات کرانے سے انکار کیا۔
یوکرین اپنے اتحادیوں سے جنگ ختم کرنے کے لیے مضبوط سلامتی کی ضمانتیں چاہتا ہے، جبکہ ملک میں روسی فضائی حملے، فرنٹ لائن پر لاکھوں فوجی اور لاکھوں بے گھر افراد کی موجودگی انتخابات کے انعقاد کو مشکل بنا رہی ہے۔