گوگل کیخلاف یورپی یونین اینٹی ٹرسٹ تحقیقات، اے آئی اوورویوز اور یوٹیوب استعمال زیر نگرانی
- یہ ایک ماہ کے اندر گوگل کے خلاف دوسری تحقیقات ہیں
یورپی یونین نے گوگل کے خلاف اس کے پبلشرز کے آن لائن مواد اور یوٹیوب ویڈیوز کو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنے پر اینٹی ٹرسٹ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ ایک ماہ کے اندر گوگل کے خلاف دوسری تحقیقات ہیں، جو بڑی ٹیک کمپنیوں کی نئی ٹیکنالوجیز میں اجارہ داری کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس اقدام سے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بھی بڑھ سکتا ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں یورپی قوانین واشنگٹن کے لیے حساس نقطہ بن گئے ہیں۔
یورپی کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گوگل پبلشرز کے آن لائن مواد کو اپنی اے آئی-جنریٹڈ سمریز یعنی اے آئی اوورویوز میں استعمال کر رہا ہے بغیر مناسب معاوضے کے اور بغیر پبلشرز کو انکار کا اختیار دیے۔ اسی طرح گوگل کے صارفین کی اپلوڈ کردہ یوٹیوب ویڈیوز کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
یورپی اینٹی ٹرسٹ چیف تریسا ریبیرا نے کہا کہ گوگل سرچ انجن کی اجارہ داری کا ناجائز فائدہ اٹھا کر پبلشرز کے لیے غیر منصفانہ تجارتی شرائط مسلط کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معلوماتی ماحولیاتی نظام کی صحت پبلشرز کی معیاری مواد پیدا کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے اور ہم گیٹ کیپرز کو یہ فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
گوگل نے جولائی میں آزاد پبلشرز کی شکایت کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد یہ تحقیقات شروع ہوئیں۔ گوگل کے ترجمان نے کہا کہ یہ شکایت مارکیٹ میں جدت کو دبانے کا خطرہ ہے اور یورپی صارفین جدید ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کے مستحق ہیں۔
آزاد پبلشرز الائنس، موومنٹ فار اوپن ویب اور برطانوی غیر منافع بخش ادارہ فوکس گلاو نے گوگل پر تنقید کی۔ ان کے وکیل ٹم کوون نے کہا کہ گوگل نے انٹرنیٹ کے بنیادی معاہدے کو توڑا، اور اب اپنے اے آئی جمنائی کو ترجیح دے کر ویب سائٹس کے مواد سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
اے آئی اوورویوز صارفین کو متعلقہ ویب صفحات کے اوپر دکھائے جانے والے خلاصے فراہم کرتے ہیں اور 100 سے زیادہ ممالک میں استعمال ہوتے ہیں۔ گوگل نے گزشتہ مئی سے ان میں اشتہارات بھی شامل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اگر گوگل کو ای یو اینٹی ٹرسٹ قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو اسے اپنی عالمی سالانہ آمدنی کا 10 فیصد تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔