کاروبار اور معیشت

پریمیم ٹیکسٹائل یو اے ای میں سبسڈری قائم کرے گا

  • حالیہ مہینوں میں کئی پاکستانی کمپنیوں نے یو اے ای خصوصاً دبئی میں اپنی کاروباری سرگرمیوں کو بڑھایا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پریمیم ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ جو کہ پاکستان کی ایک ٹیکسٹائل فرم ہے نے متحدہ عرب امارات میں مکمل ملکیت والی ذیلی کمپنی قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

کاٹن اور پولیسٹر یارن کی تیاری اور فروخت کے کاروبار سے وابستہ لسٹڈ کمپنی نے منگل کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کو دیے گئے اپنے نوٹس میں اس پیشرفت کا انکشاف کیا۔

نوٹس کے مطابق پریمیم ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 8 دسمبر 2025 کی سرکلر ریزولوشن کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں مکمل ملکیت والی ذیلی کمپنی کے قیام کی منظوری دی ہے۔

گزشتہ ماہ پریمیم ٹیکسٹائلز نے قابل تجدید توانائی میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے، 7.5 میگاواٹ کی ونڈ ٹربائن نصب کرنے کے ایک بڑے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

حالیہ مہینوں میں کئی پاکستانی کمپنیوں نے متحدہ عرب امارات، خصوصاً دبئی میں اپنی کاروباری سرگرمیوں کو بڑھایا ہے۔

اس سے قبل جولائی میں زاریا لمیٹڈ جو کہ پاکستان کے سب سے بڑے کموڈٹیز بی ٹو بی پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے نے دبئی میں مکمل ملکیت والی ذیلی کمپنی قائم کی۔ جون میں کنفیکشنری تیار کرنے والی کمپنی اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ نے ابوظہبی، متحدہ عرب امارات میں ایک ذیلی کمپنی قائم کرنے کے اپنے منصوبوں کا اعلان کیا۔ ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ نے بھی دبئی میں ٹریٹ ٹریڈنگ ایل ایل سی کے نام سے مکمل ملکیت والی سبسڈری کامیابی کے ساتھ قائم کی۔

متحدہ عرب امارات کو پاکستانی کمپنیوں کے لیے پسندیدہ مقام بنانے میں کئی عوامل شامل ہیں جن میں آسان ادائیگی کے عمل، سازگار کاروباری ماحول اور معاہدوں کا بہتر نفاذ اہم ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یو اے ای میں دفتر قائم کرنے سے پاکستانی کمپنیوں کو اسٹریٹجک فائدہ حاصل ہوتا ہے جس سے وہ عالمی مرکز کی ضروری بنیادی ڈھانچہ اور درست قانونی فریم ورک کا فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔