سیاسی رہنماؤں کی پی ٹی آئی پر کڑی تنقید ، مسلح افواج سے اظہارِ یکجہتی
- شکر کریں فوج صرف پریس کانفرنس کر کے آپ کی بدعنوانیاں بے نقاب کر رہی ہے ، مصطفیٰ کمال
متعدد سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنماوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی حمایت کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے رہنماوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یہ پیش رفت اس کے چند روز بعد سامنے آئی جب آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک طویل پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اور خیبر پختونخوا میں پارٹی کی حکومت کو نشانہ بنایا۔
پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے مسلح افواج کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی بدنام زمانہ مہم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ فوج کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ قید میں موجود ذہنی مریض نے کبھی سچائی کا دامن نہیں تھاما اور عوام کے پیسوں سے فراڈ کر کے ملک کی معیشت تباہ کی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی پشاور ریلی کی ناکامی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ لوگ ہمارے شہداء کے خلاف سوشل میڈیا پر بولتے ہیں اور صرف اپنی ذاتی انا کی تسکین چاہتے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سیاسی بحران اور بیرونی مداخلت کے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے تمام جماعتوں کو قومی مفاد کے لیے متحد ہونے کی دعوت دی۔
سینیئر رہنما سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ فوج کسی ایک پارٹی کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے اور پی ٹی آئی کی مہم سے افواج کی حوصلہ شکنی کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا شکر گزار رہیں کہ فوج صرف پریس کانفرنس کر کے آپ کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کر رہی ہے۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بھی مسلح افواج کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی، خاص طور پر مئی میں بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران پاک فوج کی بہادری اور قربانیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج نے بھارت کے بڑے حملے کو ناکام بنایا اور قومی سلامتی کا دفاع کیا۔