پاک قطر فیملی تکافل کا اعلان: آئندہ ہفتے آئی پی او کے ذریعے ایک ارب روپے سے زائد رقم اکٹھی کی جائے گی
- بولی 14 روپے فی شیئر کی کم از کم قیمت سے شروع ہوگی، جو زیادہ سے زیادہ 50 فیصد اضافہ کے ساتھ 21 روپے فی شیئر تک جا سکتی ہے
پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ ( پی کیو ایف ٹی ایل) آئندہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر اپنے 50 ملین شیئرز فروخت کر کے 700 ملین سے 1.05 کے درمیان روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
پریس بیان میں بتایا گیا ہے کہ شرعی اصولوں کے مطابق کام کرنے والی یہ فیملی انشورنس کمپنی شیئرز کو ابتدائی عوامی اجراء (آئی پی او ) کے ذریعے فروخت کرے گی۔ اس عمل کے تحت، پیشکش کے لیڈ مینیجر عارف حبیب لمیٹڈ ( اے ایچ ایل ) ڈچ بولی (بک بلڈنگ پروسیس) کے ذریعے اسٹریک پرائس طے کرے گا تاکہ شیئرز فروخت کیے جا سکیں۔
بولی کا آغاز فی شیئر 14 روپے کی کم از کم قیمت سے ہوگا، جو دو روزہ بک بلڈنگ کے عمل کے دوران زیادہ سے زیادہ 50 فیصد اضافے کے ساتھ 21 روپے فی شیئر تک جا سکتی ہے۔ یہ عمل 11 اور 12 دسمبر 2025 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منعقد ہوگا۔
بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل ) کے سی ای او شاہد علی حبیب نے کہا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی) نے شیئر کی قیمت کو زیادہ سے زیادہ 50 فیصد بڑھانے کی اجازت دی ہے، جس کے تحت کم از کم قیمت 14 روپے فی شیئر اور زیادہ سے زیادہ قیمت 21 روپے فی شیئر مقرر کی گئی ہے۔
پی کیو ایف ٹی ایل جلد ہی آئی پی او کے لیے پراسپیکٹس شائع کرے گی۔ پراسپیکٹس میں سرمایہ کاروں کے لیے مواقع اور خطرات، تفصیلی مالیاتی اکاؤنٹس اور کمپنی کے مستقبل کے امکانات سے متعلق معلومات شامل ہوں گی۔
شاہد علی حبیب نے مزید کہا کہ آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم پاک-قطر فیملی تکافل کو کم از کم سرمایہ کی ضروریات پوری کرنے، ڈیجیٹل چینلز کو بڑھانے، اور صارفین پر مرکوز مزید مصنوعات تیار کرنے میں مدد دے گی۔
شاہد علی حبیب کے مطابق قطر کے مالی شعبے کے مضبوط تعاون کے ساتھ یہ کمپنی اپنے آپریشنز اور مصنوعات کو پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی انشورنس مارکیٹ میں وسعت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
کل 50 ملین شیئرز میں سے 75 فیصد (یعنی 37.5 ملین) بک بلڈنگ کے ذریعے ادارہ جاتی خریداروں کو الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ باقی 25 فیصد (12.5 ملین شیئرز) عام عوام کے لیے جاری کیے جائیں گے۔
بیان کے مطابق پاک قطر فیملی تکافل فیملی تکافل (ونڈو تکافل سمیت) سیکٹر میں 44 فیصد مارکیٹ شیئر اور مخصوص فیملی تکافل سیکمنٹ میں 90.47 فیصد مارکیٹ شیئر رکھتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 2024 میں پاکستان میں انشورنس کا دائرہ کار صرف 0.7 فیصد رہا، تاہم بڑھتی ہوئی تعلیم اور بہتر اقتصادی حالات مستقبل میں مضبوط ترقی کی صلاحیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ “عالمی انشورنس صنعت تیزی سے تو بڑھی ہے لیکن غیر متوازن طور پر، جہاں ترقی یافتہ معیشتوں میں 10 فیصد سے زائد دائرہ کار ہے، وہیں ای ایم ای اے اور ایشیا کے ابھرتے ہوئے بازار پیچھے رہ گئے ہیں۔”