کاروبار اور معیشت

پاکستان میں سولر کی مقامی مینوفیکچرنگ ابھی قابل عمل نہیں، عثمان محمد معود

  • مقامی تیار شدہ پینلز کو مسابقتی طور پر برآمد نہیں کیا جا سکتا، لونگی
شائع December 5, 2025 اپ ڈیٹ December 5, 2025 12:24pm

دنیا کے بڑے سولر پینل مینوفیکچررز میں سے ایک لونگی (LONGi) کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے پاکستان قابل تجدید توانائی کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، دو اہم رکاوٹیں جس میں مقامی پینل مینوفیکچرنگ کی فزیبلٹی اور یوٹیلیٹی اسکیل منصوبوں کو درپیش ساختی حدود ملک کے سولر ٹرانزیشن کو سست کر سکتی ہیں۔

لونگی کے ہیڈ آف پاکستان اور افغانستان عثمان محمد معود نے بی آر ریسرچ کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ مقامی سطح پر سولر پینلز کی اسمبلنگ فی الحال عملی طور پر ممکن نہیں۔

گھریلو طور پر تیار شدہ پینلز بنیادی طور پر مقامی استعمال کے لیے ہیں اور انہیں مسابقتی طور پر برآمد نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیداوار کے اخراجات، مزدوری اور کوالٹی ایشورنس کی وجہ سے حتمی لاگت تقریباً 30 فیصد بڑھ جاتی ہے جبکہ معیار تھوڑا کم ہوسکتا ہے۔

جب تک حکومتی پالیسیاں مضبوط کاروباری بنیاد فراہم نہیں کرتیں، بشمول معیار اور مسابقت کے لیے مراعات، عالمی سرمایہ کاروں کے لیے مقامی مینوفیکچرنگ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری مشکل رہتی ہے۔

عثمان محمد معود نے بتایا کہ یوٹیلیٹی اسکیل سولر پارکس کے قیام کی کوششیں بھی ساختی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

بڑے پلانٹس کے لیے ہزاروں ایکڑ زمین درکار ہوتی ہے جو کہ زرعی ملک میں حاصل کرنا مشکل ہے۔

اس کے علاوہ ٹرانسمیشن لائنیں اکثر اپنی پوری استعداد سے کم استعمال ہوتی ہیں جس سے منصوبے کی مجموعی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو پاور پلانٹ کی کارکردگی اور ٹرانسمیشن کی فزیبلٹی کے درمیان عدم توازن کا حساب رکھنا پڑتا ہے، جو بڑے پیمانے پر یوٹیلیٹی اسکیل سولر کو وسعت دینے میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔

لونگی کے مطابق یہ دوہرا چیلنج غیر مسابقتی مقامی مینوفیکچرنگ اور انفرااسٹرکچر کی رکاوٹیں پاکستان کی سولر توانائی کو بڑھانے کی صلاحیت پر تشویش پیدا کرتا ہے۔

تاہم ان رکاوٹوں کے باوجود پاکستان میں متبادل توانائی کے ذرائع، خاص طور پر سولر توانائی کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے، اور یہ رہائشی اور تجارتی شعبوں میں تیزی سے مقبول ہو چکا ہے۔

پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیویلپمنٹ کے مطابق پاکستان اپنے توانائی شعبے میں بے مثال سولرائزیشن کا تجربہ کر رہا ہے، اور ملک بھر میں 33 گیگاواٹ کی صلاحیت والے سولر فوٹو وولٹائک (پی وی) پینلز نصب کیے جاچکے ہیں۔

یہ بڑھتا ہوا رجحان فیصلہ سازوں کو قومی گرڈ اور توانائی شعبے پر اس کے اثرات پر غور کرنے پر مجبور کر رہا ہے کیونکہ بجلی کی کھپت مستحکم رہنے کے باوجود نہیں بڑھ رہی، اس کے باوجود کئی منصوبے اس نسبتاً سستی توانائی کے استعمال کے لیے شروع کیے جاچکے ہیں۔