پاکستان

پی ٹی اے کی مشروط منظوری، پی ٹی سی ایل کی ٹیلی نار پاکستان کے حصول کی راہ ہموار

  • ڈیل کی مکمل منظوری کے بعد پی ٹی سی ایل گروپ ملک کے دوسرے سب سے بڑے ٹیلی کام آپریٹر کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لے گا
شائع December 4, 2025 اپ ڈیٹ December 4, 2025 11:09am

پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کی صورتِ حال کو نئے انداز میں تشکیل دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کو ٹیلی نار پاکستان کے حصول کی مشروط منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ٹیلی کام سیکٹر کی سب سے زیادہ زیرِ بحث اور متوقع ڈیلز میں سے ایک میں اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔

حکام کے مطابق پی ٹی اے نے پی ٹی سی ایل سے باضابطہ طور پر یہ پوچھا تھا کہ آیا وہ ان شرائط کو قبول کرے گا جو ریگولیٹر نے مرجر اور ایکوزیشن کے عمل کے ساتھ منسلک کی ہیں۔ بعد ازاں پی ٹی سی ایل نے بغیر کسی شرط کے ان شرائط کو تسلیم کرنے کا فیصلہ پی ٹی اے کو بتادیا جس سے وہ بڑا ریگولیٹری مرحلہ عبور ہوگیا جو کئی ماہ سے رکا ہوا تھا۔

یہ پیش رفت اربوں روپے کی اس لین دین کے آخری ریگولیٹری عمل کی راہ ہموار کرتی ہے، جس سے اگلے اسپیکٹرم نیلامی سے قبل مارکیٹ میں مقابلے کے ڈھانچے میں تبدیلی کی توقع ہے۔

اس منظوری کا مطلب یہ بھی ہے کہ پی ٹی اے پی ٹی سی ایل کی سروس کے تسلسل، صارفین کے تحفظ، نیٹ ورک انٹیگریشن اور مرجر کے بعد کے تعمیل کے اقدامات سے مطمئن ہے۔

صنعتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ڈیل کی مکمل منظوری کے بعد پی ٹی سی ایل گروپ ملک کے دوسرے سب سے بڑے ٹیلی کام آپریٹر کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لے گا جبکہ ٹیلی نار تقریباً دو دہائیوں کے بعد پاکستان سے نکل جائے گا۔

اب چونکہ پی ٹی سی ایل کی بغیر شرط قبولیت ریکارڈ پر ہے، مرجر کا عمل تیز ہو جائے گا اور باقی رہ گئے قانونی و پروسیجرل مراحل کی تکمیل کی جانب پیش رفت ہوگی۔