این ایف سی اجلاس آج، نئے ریونیو شیئرنگ فارمولے پر غور متوقع
- وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اجلاس کی صدارت کریں گے۔ یہ اجلاس متعدد مرتبہ ملتوی ہوتا رہا ہے
مہینوں کی تاخیر کے بعد نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا اجلاس جمعرات (4 دسمبر) کو طلب کر لیا گیا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان نئے ریونیو شیئرنگ فارمولے پر باضابطہ مذاکرات کے آغاز کیلئے اہم پیش رفت ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اجلاس کی صدارت کریں گے۔ یہ اجلاس متعدد مرتبہ ملتوی ہوتا رہا ہے، جن میں آخری بار 10 نومبر کی تاریخ بھی ممبران کی عدم دستیابی کے باعث مؤخر کر دی گئی تھی۔ اگر آج کا اجلاس منصوبے کے مطابق ہو جاتا ہے تو یہ 22 اگست کو صدر کی جانب سے باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیے گئے 11ویں این ایف سی کا پہلا اجلاس ہوگا۔
ذرائع کے مطابق تمام صوبوں نے اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اجلاس سے قبل خیبرپختونخوا نے اپنے اہم مطالبات کو حتمی شکل دے دی ہے، جن میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو ضم شدہ فاٹا اضلاع کو شامل کرتے ہوئے اپ ڈیٹ کرنا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مختص حصہ ایک فیصد سے بڑھا کر تین فیصد کرنا، آرٹیکل 161 کے تحت تیل پر ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق تنازعات حل کرنا، گیس پر ایکسائز ڈیوٹی اور ونڈ فال لیوی کے نظام کو ازسرِنو ترتیب دینا اور این ایف سی اجلاسوں کے لیے ماہانہ شیڈول طے کرنا شامل ہیں تاکہ تسلسل برقرار رہے۔
صوبے نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ موجودہ این ایف سی، پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد سابق فاٹا کو شامل نہ کرنے کے باعث آرٹیکل 160 سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس لیے اپنی موجودہ شکل میں غیر مؤثر تصور ہوتا ہے۔
ابتدائی اجلاس، جو 28 اگست کو ہونا تھا، سندھ حکومت کی درخواست پر ملتوی کر دیا گیا تھا کیونکہ صوبہ سیلابی ایمرجنسی سے نمٹ رہا تھا۔ بعد ازاں این ایف سی سیکرٹریٹ نے اجلاس کی نئی تاریخ مقرر کی۔
ذرائع کے مطابق پہلے اجلاس میں تکنیکی ذیلی گروپوں کی تشکیل کی منظوری دیے جانے اور آئندہ ماہ کے مذاکرات کے لیے ایک منظم روڈ میپ کی توثیق کیے جانے کا امکان ہے۔
سینئر حکام تسلیم کرتے ہیں کہ آنے والے مذاکرات پیچیدہ ہوں گے کیونکہ وفاق کی مالی گنجائش محدود ہے، قرضوں کی ادائیگیاں بڑھ رہی ہیں اور صوبوں کے قومی وسائل میں اپنے حصے میں اضافے کے مطالبات شدت اختیار کر رہے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025