حکومت کا مصر کے ساتھ 250 پاکستانی بزنس ہاؤسز کی فہرست شیئر کرنے کا فیصلہ
- 2026 کی دوسری سہ ماہی میں دونوں وزرائے خارجہ کی مشترکہ صدارت میں پاکستان۔مصر بزنس فورم کا پہلا اجلاس قاہرہ میں منعقد ہو گا، اسحاق ڈار
پاکستان اور مصر نے دو طرفہ معاشی شراکت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کے تحت پاکستان، مصر کو 250 نمایاں پاکستانی بزنس ہاؤسز کی فہرست فراہم کرے گا، تاکہ نجی شعبوں کے مابین مؤثر تعاون اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جا سکے۔ یہ بات ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں اپنے مصری ہم منصب ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور مصر کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 300 ملین ڈالر ہے، جسے بڑھانے کے لیے دونوں فریقین نے بہت توجہ کے ساتھ بات چیت کی۔
اسحاق ڈار کے مطابق ایف پی سی سی آئی اور چیمبرز آف کامرس کی مشاورت سے 250 پاکستانی بزنس ہاؤسز کی فہرست تیار کی جائے گی جو مختلف معاشی شعبوں کی نمائندگی کریں گے۔ مصر ان اداروں کو وائٹ لسٹ میں شامل کرے گا، جس کے بعد ان کاروباری افراد کو بزنس ویزوں کے حصول میں درپیش تاخیر کا مسئلہ بڑی حد تک ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ چھ ماہ کے اندر مزید 250 کاروبار اس فہرست میں شامل کر کے مجموعی تعداد 500 تک پہنچا دی جائے گی، جس کے بعد پاکستان۔مصر بزنس کونسل قائم کی جائے گی تاکہ نجی شعبوں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں دونوں وزرائے خارجہ کی مشترکہ صدارت میں پاکستان۔مصر بزنس فورم کا پہلا اجلاس قاہرہ میں منعقد ہو گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 2010 کے بعد سے دونوں ممالک کی جوائنٹ منسٹریل کمیشن کا اجلاس نہیں ہو سکا، تاہم طے کیا گیا ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اعلیٰ حکام کی سطح پر سیاسی مشاورت ہو گی۔ مصر کی جانب سے ایک اسسٹنٹ منسٹر جبکہ پاکستان کی طرف سے سیکرٹری خارجہ اس عمل کی قیادت کریں گے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ مصر نے پاکستانی طلبہ کے لیے جامعہ الازہر میں اسکالرشپس کی تعداد دگنی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اسکالرشپس بنیادی طور پر قرآنی تعلیم، انتہاپسندی کے خلاف فکری تربیت اور امن کے فروغ سے متعلق کورسز پر مشتمل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ خطے کی صورتحال خصوصاً غزہ میں انسانی بحران پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
مصری وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مصر، پاکستان کے ساتھ اقتصادی، سیکیورٹی، سیاسی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے موجودہ مکینزم کو ازسرنو فعال کرے گا۔
دورے کے دوران ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے صدر آصف علی زرداری اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں باہمی تعاون، علاقائی امن اور دفاعی روابط پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025