وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو پاکستان اور بحرین کے تعلقات کو نئی جہت دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مشترکہ تاریخی پس منظر، اسٹریٹجک شراکت داری اور اقتصادی تعاون کے وسیع مواقع پر روشنی ڈالی۔

یہ موقع بحرین میں بزنس کمیونٹی کے پروگرام کے دوران آیا، جس میں بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ الخلیفہ نے افتتاحی کلمات میں دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات تاریخ کے تناظر میں جڑے ہوئے ہیں اور وزیراعظم کی موجودگی باہمی تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ اپنے آخری مراحل میں ہے اور اس سے تجارتی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بحرینی کاروباری برادری کے لیے سرمایہ کاری اور کاروباری عمل میں مکمل سہولت فراہم کرنے کا یقین دلایا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں جو ثقافتی اور مذہبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ہیں۔ انہوں نے زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک، معدنیات، توانائی، سیاحت اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوان ہے اور حکومت نوجوانوں کو آئی ٹی اور تکنیکی تربیت دے کر ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے بحرینی کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں شراکت کی دعوت دی۔

شیخ سلمان نے پاکستانیوں کی بحرین میں خدمات کو سراہا اور کہا کہ کئی پاکستانی اب بحرین کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی بینکوں کے کردار کی بھی تعریف کی جو پچھلے نصف صدی سے بحرین کے مالی شعبے کا ستون ہیں۔

وزیراعظم نے بحرین میں مقیم پاکستانی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پچھلے مالی سال میں بھی 484 ملین امریکی ڈالر کی ترسیلات نے کمیونٹی کی وابستگی اور تعاون کو ظاہر کیا۔

شہباز شریف نے پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بحرینی سرمایہ کاروں کو مشترکہ منصوبوں میں شمولیت کی دعوت دی تاکہ طویل المدتی اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔