دنیا

جی 20 کی قیادت امریکہ کے حوالے، گلوبل نارتھ کے قرضہ بحران کے حل کا امتحان

  • انڈونیشیا، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کی قیادت کے دور کا سلسلہ مکمل ہو
شائع November 24, 2025 اپ ڈیٹ November 24, 2025 12:29pm

جنوبی افریقہ نے اتوار کو جی 20 کی صدارت امریکہ کے حوالے کر دی، جس کے بعد چار بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں – انڈونیشیا، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ – کی قیادت کے دور کا سلسلہ مکمل ہوا۔ یہ وہ سال تھے جن میں ترقی پذیر ممالک میں قرض کی پائیداری ایک اہم ترجیح بن گئی۔

ابھرتی ہوئی معیشتوں کا قرضہ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے، جو 100 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ افریقہ میں یہ موضوع خاص طور پر حساس ہے، جہاں آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ 20 افریقی ممالک قرض کے دباؤ یا اس کے خدشے میں ہیں۔ سینگال میں اربوں ڈالر کے غیر ظاہر شدہ قرض کی وجہ سے آئی ایم ایف نے 1.8 ارب ڈالر کے پروگرام کو روک دیا اور کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کی گئی۔ گابون نے ایک ارب ڈالر کے علاقائی بانڈ سویپس کے ذریعے قرض کی ادائیگی کا دباؤ کم کرنے کی کوشش کی، جبکہ موزمبیق اور ملاوی بھی قرض کی ری اسٹرکچرنگ کے اقدامات کر رہے ہیں۔

اگرچہ جی 20 نے 2020 میں کامن فریم ورک شروع کیا تھا تاکہ کوویڈ کے بعد کمزور ممالک کے قرض کی تیز تر تنظیم نو ممکن ہو، لیکن بین الاقوامی مالیاتی نظام کی اصلاح میں پیش رفت سست رہی۔ جنوبی افریقہ نے صدارت کے دوران کوشش کی کہ کامن فریم ورک کو مضبوط بنایا جائے اور قرض کی پائیداری پر ایک الگ وزارتی اعلامیہ جاری کیا جائے۔

کامن فریم ورک کے تحت اب تک چاڈ، زیمبیا، گھانا اور ایتھوپیا کو قرض کی ریلیف فراہم کی گئی ہے، جس سے اس کے محدود اثرات ظاہر ہوئے۔ تاہم امریکہ کی صدارت میں جی 20 قرض کے مسائل، اقتصادی نمو اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے ایجنڈے پر کام کرے گا۔

افریقہ کے لیے جی 20 افریقہ انگیجمنٹ فریم ورک کے تحت اقتصادی ترقی، قرض، مالی معاونت اور غربت کے خاتمے جیسے امور پر توجہ دی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کی پائیداری کے فریم ورک میں اصلاحات ضروری ہیں تاکہ کمزور ممالک کے لیے مالی حالات بہتر ہوں اور ترقیاتی بینکوں کے ضمانتی اقدامات پر پابندی نہ لگے۔

جنوبی افریقہ کے وزیر خزانہ اینوچ گوڈونگوانا نے کہا کہ وہ گزشتہ سال کے سفارشات کو آگے بڑھائیں گے، جس میں قرض کی ریلیف کے اقدامات کو باقاعدہ شکل دینا شامل ہے۔