پرتھ ٹیسٹ، ایک صدی میں سب سے مختصر ایشز میچ، کرکٹ آسٹریلیا کو بھاری مالی نقصان
- دو دن پر مشتمل اس میچ میں مجموعی طور پر 847 گیندیں کھیلی گئیں، یہ ایشز کی تاریخ میں تیسرے سب سے مختصر ٹیسٹ کا اعزاز رکھتا ہے
پرتھ میں کھیلاجانے والا ایشز ٹیسٹ تاریخ میں آسٹریلیا میں سب سے مختصر ایشز میچ کے طور پر درج ہو گیا، جو صرف دو دنوں میں ختم ہو گیا۔ یہ میچ مجموعی طور پر 847 گیندوں پر مشتمل تھا اور ایشز کی تاریخ میں تیسرے سب سے مختصر ٹیسٹ کا اعزاز رکھتا ہے۔ انگلینڈ میں 1888 کے سیریز کے دو میچ اس سے بھی کم گیندوں پر ختم ہوئے تھے، اولڈ ٹریفورڈ میں 788 اور لارڈز میں 792 گیندوں پر۔ آسٹریلیا میں سب سے مختصر ٹیسٹ 1894/95 میں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا گیا تھا جو 911 گیندوں پر ختم ہوا۔
انگلینڈ کی بیٹنگ پوری میچ میں مشکلات کا شکار رہی اور دو اننگز میں صرف 405 گیندوں کا سامنا کیا، جو کسی بھی ایشز ٹیسٹ میں ان کی تیسرے سب سے مختصر بیٹنگ ریکارڈ کی نمائندگی کرتا ہے۔ صرف 1904 میں ایم سی جی اور 1888 میں لارڈز کے میچ اس سے کم گیندوں پر ختم ہوئے تھے۔
آسٹریلیا نے 205 رنز کا ہدف صرف 28.2 اوورز میں مکمل کیا، جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 200 یا اس سے زیادہ رنز کے سب سے تیز کامیاب چیس کے طور پر ریکارڈ ہوا، جو اوسطاً 7.23 رنز فی اوور بنتا ہے۔
تاہم، میچ کے جلد ختم ہونے نے کرکٹ آسٹریلیا پر مالی اثرات مرتب کیے ہیں۔ تیسرے اور چوتھے دن کی ٹکٹیں واپس کرنی پڑیں، جس سے کم از کم 2 ملین آسٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ کچھ رپورٹس میں 3 ملین ڈالر تک کا تخمینہ لگایا گیا۔ براڈکاسٹرز کو بھی کم نشریاتی وقت اور کم اشتہاری مواقع کی وجہ سے آمدنی میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
کرکٹ آسٹریلیا کے سی ای او ٹوڈ گرین برگ نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس اچانک اختتام سے براڈکاسٹرز، اسپانسرز اور مجموعی سیریز کی آمدنی متاثر ہوگی۔ گزشتہ سال بورڈ نے 11.3 ملین ڈالر کا خسارہ رپورٹ کیا تھا اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پرتھ ٹیسٹ کا جلد اختتام مقامی کرکٹ مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔