وفاقی وزیروسیکرٹری تجارت کی نیدرلینڈز کے سفیر سے ملاقات، تجارتی چیلنجز کی نشاندہی
- زرعی و غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے لیے زیادہ امکانات موجود ہیں ،جام کمال
**
پاکستان نے ہالینڈ کے ساتھ مذاکرات کے دوران یورپی یونین (ای یو) کے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا جبکہ ساتھ ہی ان اہم تجارتی شکایات کی نشاندہی بھی کی جو مارکیٹ تک رسائی میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رہی ہیں۔**
ایک بیان کے مطابق ہفتے کو وفاقی وزیر تجارت اور سیکرٹری تجارت کے نیدرلینڈز کے سفیر رابرٹ جان سیگرٹ کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے دوران پاکستان نے ایتھانول کی مراعات کی واپسی اور بھارت کے ساتھ باسمتی چاول کی جغرافیائی نشاندہی پر جاری تنازعہ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔
سیکرٹری تجارت جواد پال نے وضاحت کی کہ یورپی یونین کا پاکستان کے ساتھ تعامل کا صرف ایک ہی منصوبہ ہے، اور وہ ہے جی ایس پی پلس۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے، کیونکہ وہ اسے اپنے بہترین مفاد میں سمجھتا ہے۔
سیکرٹری تجارت نے یورپی یونین کی جانب سے ایتھانول پر دی جانے والی مراعات ختم کرنے کے معاملے کو بھی اٹھایا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کی صنعت محسوس کرتی ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، اس سلسلے میں صنعتی ایسوسی ایشن نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے۔
حکومتی عہدیدار نے ہالینڈ کے سفیر سے درخواست کی کہ وہ اس اپیل پر غور کریں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ باسمتی چاول کی جغرافیائی شناخت کے لیے درخواست بھارت اور پاکستان دونوں نے دائر کی ہے۔ بھارت کا باسمتی پر واحد حق کا دعویٰ نہ تو تاریخ اور نہ ہی ادب سے حمایت شدہ ہے۔
عہدیدار نے یہ بھی ذکر کیا کہ پاکستان سے ہالینڈ کو چاول کی برآمدات، چاہے کسی بھی قسم کے ہوں، میں بہت زیادہ ممکنات موجود ہیں جو فی الحال بروئے کار نہیں لائی جارہیں۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا کہ دوطرفہ تجارتی حجم کا جائزہ لینے پر انہیں متنوع کرنے کے بے پناہ مواقع نظر آئے ہیں۔
پاکستان سے زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ پیداوار اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے بہت کچھ دریافت کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے خدمات کے شعبے کی اہمیت اور ممکنات پر بھی زور دیا۔ “پاکستان میں نوجوان آبادی کی بڑی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، خدمات کا شعبہ بہت آسانی سے اور کم وقت میں اشیاء کی برآمدات سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
وزیرِ تجارت نے ہالینڈ میں قائم جاز ٹیلی کام کی بھی تعریف کی اور دیہی آبادی کے ڈیجیٹل مالیاتی انضمام میں اس کے کردار کو سراہا۔
سفیر نے ذکر کیا کہ وہ باقاعدہ مذاکرات کے آغاز کی تاریخوں پر بات کر رہے ہیں تاکہ تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے نئے مواقع اور شعبوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ آنے والے جی ایس پی مانیٹرنگ مشن کے دورے کے حوالے سے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت یورپی یونین اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
وزیرِ تجارت نے ذکر کیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد کئی موضوعات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں، تاہم وزارتِ تجارت اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطہ اور آگاہی پیدا کر رہی ہے۔
ہالینڈ کے نمائندے نے کہا کہ پہلے ہالینڈ کی کمپنیوں کو اپنے منافع کی وطن منتقلی میں مشکلات کا سامنا تھا لیکن اب یہ مسئلہ پاکستان میں اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے حل ہوگیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہتر میکرو اکنامک حالات غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد جیتیں گے۔
دریں اثنا وزیرِ تجارت نے ذکر کیا کہ پاکستان اپنے ڈیری اور گوشت کے شعبے کو وسعت دینے اور ان دونوں مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
انہوں نے ہالینڈ کے سفیر سے درخواست کی کہ اگر ممکن ہو تو ان شعبوں میں ہالینڈ اور پاکستان کے درمیان ٹیکنالوجی شیئرنگ کی جا سکے، جس پر سفیر نے یقین دلایا کہ کئی منصوبے ہیں، خاص طور پر ڈرون کی مدد سے پانی کے مؤثر انتظام کے منصوبے، جو پاکستان کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں، اور اس حوالے سے انہوں نے مکمل عزم اور تعاون کا اظہار کیا۔