ٹیکنالوجی

مالی سال 2025 : پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کی کل آمدنی میں 152 ارب روپے کی کمی کا خدشہ

  • ٹیلی کام آپریٹرز بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات، بھاری ٹیکس بوجھ اور صارفین کی کمزور ہوتی قوت خرید کا سامنا کر رہے ہیں
شائع November 20, 2025 اپ ڈیٹ November 20, 2025 05:49pm

پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کی آمدنی مالی سال 2024-25 میں سالانہ بنیادوں پر 16 فیصد کمی کے ساتھ 803 ارب روپے رہ گئی، کیونکہ آپریٹرز بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات، بھاری ٹیکس اور صارفین کی کمزور ہوتی قوت خرید کا سامنا کر رہے ہیں۔

ریونیو میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی اپ گریڈ، اسپیکٹرم ریفارمنگ اور نیٹ ورک کی جدید کاری کی اشد ضرورت ہے تاکہ خطے کے معیار کے مطابق ترقی کی جا سکے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے تازہ ترین اعداد و شمار، جو ڈائریکٹر جنرل لائسنسنگ بریگیڈئیر عامر شہزاد (ریٹائرڈ) نے جمعرات کو شیئر کیے، کے مطابق ٹیلی کام آمدنی مالی سال 2024 میں 955 ارب روپے سے کم ہو کر مالی سال 2025 میں 803 ارب روپے ہو گئی ہے، یعنی 152 ارب روپے یا 16 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ڈیٹا کی کھپت ریکارڈ سطح 27,897 پیٹا بائٹس (پی بی ) تک پہنچ گئی ہے اور براڈبینڈ صارفین کی تعداد 150 ملین ہو گئی ہے۔

صنعتی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق آمدنی میں کمی کی بنیادی وجوہات بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات، بھاری ٹیکس اور صارفین کی کمزور قوت خرید ہیں۔

ٹیلی کام سیکٹر ایک پریشان کن تضاد کا سامنا کر رہا ہے: استعمال میں اضافہ، نیٹ ورک کی وسعت، لیکن آمدنی میں کمی۔

حالانکہ تقریباً ہر کارکردگی کے اشارے میں اضافہ ہوا ہے، صنعت نے ریونیو میں شدید کمی دیکھی، جس نے گہرے ساختی کمزوریاں ظاہر کی ہیں اور طویل مدتی استحکام کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار ایک سخت تصویر پیش کرتے ہیں: آپریٹرز پہلے سے زیادہ ٹریفک ہینڈل کر رہے ہیں لیکن ہر صارف سے کم کما رہے ہیں، کیونکہ بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگائی اور قیمتوں کی جنگ نے ترقی کو نقصان دہ کھیل میں بدل دیا ہے۔

ڈی جی پی ٹی اےکے مطابق مالی سال 25 میں ٹیلی کام کی قومی خزانے میں شراکت بڑھ کر 271 ارب روپے ہو گئی جبکہ مالی سال 24 میں یہ رقم 195.1 ارب روپے تھی۔

تاہم صارفین کی تعداد اور بنیادی ڈھانچہ تقریباً مشینی انداز میں بڑھتے جا رہے ہیں۔ ٹیلی کام صارفین کی مجموعی تعداد 200.02 ملین تک پہنچ گئی، براڈبینڈ کی رسائی 60.8 فیصد ہوئی، اور سیل سائٹس کی تعداد 58,423 تک بڑھ گئی، یہ سب اشارے اس بات کے ہیں کہ شعبہ حجم میں بڑھ رہا ہے مگر مالی صحت میں بگڑ رہا ہے۔

تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر آمدنی میں کمی جاری رہی، باوجود بڑھتی ہوئی طلب کے، تو پاکستان کی ٹیلی کام صنعت سرمایہ کاری میں کمی، خدمات کے معیار میں کمی اور ڈیجیٹل ترقی میں رکاؤٹ کے خطرناک چکر میں پھنس سکتی ہے، ایسا منظرنامہ نہ صرف صارفین کے لیے نقصان دہ ہوگا بلکہ معیشت پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔

پی ٹی اے کی قیادت میں منعقدہ بریفنگ کے دوران شیئر کیے گئے شعبہ جاتی جائزوں کے مطابق، ٹیلی کام آپریٹرز نے مجموعی ریونیو میں کمی کی رپورٹ دی ہے، جس کی بڑی وجوہات کم ہوتی وائس اور اوسط آمدنی فی صارف (اے آر پی یوز)، بلند مہنگائی، اور ڈالر سے منسلک اخراجات میں اضافہ ہیں، جن میں اسپیکٹرم فیس، آلات کی درآمدات اور نیٹ ورک کی توسیع شامل ہیں۔

ٹیلی کام کمپنیوں کا کہنا ہے کہ شعبے کی مالی پائیداری کمزور ہو رہی ہے کیونکہ آپریشنل اخراجات ریونیو کے مقابلے میں تیز رفتار سے بڑھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے نیٹ ورک کی استعداد، معیار میں بہتری اور 5G کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری کے محدود مواقع باقی رہ گئے ہیں۔

انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق موبائل اے آر پی یو، جو تاریخی طور پر خطے میں سب سے کم رہا ہے، صارفین کی کم خرچ کرنے کی عادت اور سخت قیمتوں کی جنگ کی وجہ سے مزید کم ہو گیا ہے۔ سم ، استعمال اور ریچارج پر زیادہ ٹیکس، ساتھ ہی پیشگی آمدنی ٹیکس جو اب تک واپس نہیں کیا گیا، بھی آمدنی پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔

اس شعبے کے اسٹیک ہولڈرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے سیکٹر کے لیے مالی ریلیف پیکج متعارف کروایا جائے، ٹیکس کو معقول بنایا جائے، اور ایک طویل مدتی ڈیجیٹل پالیسی فریم ورک اپنایا جائے تاکہ ریونیو میں کمی کو روکا جا سکے اور پاکستان کے ٹیلی کام بنیادی ڈھانچے کو مزید زوال سے محفوظ بنایا جا سکے۔