وزیر خزانہ کی ڈائیلاگ وفد کو اسٹریٹجک معاملات پر بریفنگ
- محمد اورنگزیب نے گزشتہ اٹھارہ ماہ میں پاکستان کی میکرو اکنامک کارکردگی اور استحکام کے اقدامات پر روشنی ڈالی
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کے روز فنانس ڈویژن میں ڈائیلاگ کے اعلیٰ سطح وفد کی میزبانی کی۔ ڈائیلاگ پیٹر تھیل اور اورین ہوفمین کی جانب سے قائم کردہ ایک عالمی لیڈر شپ پلیٹ فارم ہے۔
وفد کی قیادت سفیر علی جہانگیر صدیقی کر رہے تھے، جبکہ اس میں حکومت، ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں عالمی شخصیات شامل تھیں جن میں سیمون اسٹیونز، ویٹ ویلینٹائن ڈینگلیئر، یاسمین گرین، فاطمہ قادری، شیدی مارٹینی، ایون میرویل اور ہمنشو گلاٹی سمیت دیگر افراد شامل تھے۔
ملاقات میں پاکستان کی معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے امکانات اور جامع معاشی استحکام کے ساتھ نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے جاری اقدامات پر گفتگو ہوئی۔
وزیر خزانہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈائیلاگ کی پاکستان کے ساتھ مسلسل شمولیت کو سراہا، خاص طور پر ڈائیلاگ پاکستان ونٹر 2024 کے بعد سے عالمی حلقوں میں پاکستان کے معاشی منظرنامے اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق بڑھتی ہوئی دلچسپی کو اہم قرار دیا۔
ملاقات کے دوران محمد اورنگزیب نے گزشتہ اٹھارہ ماہ میں پاکستان کی میکرو اکنامک کارکردگی اور استحکام کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فِچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری، آئی ایم ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کی کامیابی اور کلائمٹ ریزیلینس پروگرام کے حصول کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے بہتر ہوتی جیو پولیٹیکل ہم آہنگی، امریکہ، چین اور سعودی عرب کے ساتھ مضبوط ہوتے تعلقات، اور سی پیک فیز ٹو کے آغاز کا ذکر کیا جو کاروبار سے کاروبار سرمایہ کاری، برآمدی صنعتی زونز اور مشترکہ منصوبوں پر مرکوز ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت کی توجہ اس وقت ساختی اصلاحات پر ہے جن میں ٹیکسیشن، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو، سرکاری اداروں کی نجکاری، گورننس اصلاحات اور وفاقی اخراجات میں کفایت شعاری شامل ہیں۔
انہوں نے پنشن اصلاحات پر پیش رفت، نئے ملازمین کیلئے کنٹری بیوٹری اسکیم کی تبدیلی اور طویل مدتی مالی ذمہ داریوں سے نمٹنے کیلئے مستقبل کے اقدامات پر بھی گفتگو کی۔
توانائی اصلاحات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے تقسیم کار کمپنیوں میں گورننس میں بہتری، نقصانات میں کمی، بورڈز میں نجی شعبے کی نمائندگی اور نجکاری کے نئے منصوبوں پر بات کی۔ انہوں نے مسابقتی ٹیرف نظام، توانائی شعبے کی مالی پائیداری اور نجی شعبے کی زیادہ شمولیت کو حکومت کی ترجیحات قرار دیا۔
سوال و جواب کے سیشن میں محمد اورنگزیب نے امریکہ کے ساتھ ٹیرف سے متعلق بات چیت، پاکستان کے قرضوں کی سمت، بینکنگ ریگولیشن اور سی پیک کے تحت انفراسٹرکچر سرمایہ کاری اور طویل مدتی نمو کے باہمی تعلق سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔
انہوں نے اس ارادے کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ سال عالمی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی دوبارہ حاصل کرے گا اور پانڈا بانڈز کے ممکنہ اجرا سمیت مقامی مالیاتی منڈیوں کو مزید مضبوط بنانے پر کام جاری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان ڈیموگرافک ڈھانچہ اور معدنیات، زراعت، آئی ٹی، اے آئی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، فارماسیوٹیکل اور مینوفیکچرنگ میں جاری اصلاحات ملک کو نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار ترقی کے لئے ایک مضبوط مقام فراہم کرتی ہیں۔