کاروبار اور معیشت

رواں مالی سال براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 26 فیصد کمی

  • جولائی تا اکتوبر 747.7 ملین ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی
شائع اپ ڈیٹ

رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 26 کے جولائی تا اکتوبر ملک کو 747.7 ملین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی جو گزشتہ سال اسی مدت میں 1.015 ارب ڈالر تھی، یوں 263 ملین ڈالر کی کمی ہوئی۔ اس عرصے کے دوران کل غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد 1.203 ارب ڈالر رہی اور اخراج 456 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے دوسرے حصے، پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں اس میں 160 ملین ڈالر کا خالص اخراج ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال اسی مدت میں 97 ملین ڈالر تھا۔

غیر ملکی عوامی سرمایہ کاری بھی کم ہوئی، مالی سال 26 کے جولائی تا اکتوبر 379 ملین ڈالر کی کمی دیکھی گئی جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں 283 ملین ڈالر کی آمد دیکھی گئی تھی۔

مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری جس میں براہِ راست سرمایہ کاری، پورٹ فولیو سرمایہ کاری اور غیر ملکی عوامی سرمایہ کاری شامل ہیں میں 82.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ رقم مالی سال 26 کے ابتدائی چار ماہ میں 209.2 ملین ڈالر تک گرگئی جو مالی سال 25 کی اسی مدت میں 1.196 ارب ڈالر تھی، یوں 987 ملین ڈالر کی کمی ہوئی۔

تاہم سالانہ بنیاد پر ایف ڈی آئی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اکتوبر 2025 میں یہ 179 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جو اکتوبر 2024 میں 146 ملین ڈالر تھی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ ایف ڈی آئی کے ماہانہ اخراج کی رفتار میں کمی تھی جو 139 ملین ڈالر رہی جبکہ آمد 318 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور ملک میں مزید سرمایہ کاری لانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مسلسل غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر دباؤ کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی کے لیے نہایت اہم ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025