وزارت تجارت نے5 سالہ ٹیکسٹائل پالیسی تیار کرلی، ای سی سی کے جائزے کیلئے بھیجی جائیگی
- نئی پالیسی کا بنیادی ہدف ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو 2029-30 تک بڑھا کر 29.381 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے
وزارت تجارت نے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی پانچ سالہ (2025-30) پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا ہے، جسے جلد اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حتمی منظوری سے قبل وزارت تجارت نے فیصلہ کیا ہے کہ بین الوزارتی اجلاس میں دیگر متعلقہ محکموں سے مشاورت کی جائے تاکہ اُن کے تحفظات اور تجاویز کو بھی پالیسی میں شامل کیا جاسکے۔
رپورٹ کے مطابق نئی پالیسی کا بنیادی ہدف ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو 2029-30 تک بڑھا کر 29.381 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ یہ ہدف نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بورڈ کے تحت متعارف کردہ اُڑان پاکستان اور میک اِن پاکستان اقدامات سے ہم آہنگ رکھا گیا ہے۔ مسودے میں ہر سال کیلئے برآمدی اہداف تجویز کیے گئے ہیں، جن کے مطابق 2025-26 میں ہدف 19.370 ارب ڈالر، 2026-27 میں 21.420 ارب ڈالر، 2027-28 میں 23.740 ارب ڈالر، 2028-29 میں 26.710 ارب ڈالر اور آخری سال 2029-30 میں 29.381 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔
تاہم صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں یہ اہداف محض اعداد و شمار ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت صنعت سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کر پائے گی۔ ایک اسٹیک ہولڈر نے دعویٰ کیا کہ پالیسی اپنی موجودہ صورت میں صرف ایک دستاویز بن کر رہ جائے گی، کیونکہ صنعت کی تجاویز کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔
وزارتِ تجارت کے مطابق پالیسی کے اسٹریٹجک مقاصد میں ایک سازگار کاروباری ماحول کی فراہمی، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ، مقامی خام مال کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو فروغ دینا، جدید اور ماحول دوست سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، پیداواری لاگت میں کمی، اور انسانی وسائل کی تربیت شامل ہے۔ اسی ضمن میں پالیسی میں متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
مسودے کے مطابق اسٹیٹ بینک اور ایگزم بینک برآمدی فنانس اسکیم کو ازسرِنو ڈیزائن کریں گے، جبکہ ویلیو ایڈڈ سیکٹر اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں کیلئے قرضوں کی حد بڑھانے اور مارک اپ کم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایگزم بینک ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، اسمارٹ میٹریلز، مشینری، ڈائیز، کیمیکلز اور گرین ٹیکنالوجی کیلئے خصوصی فنانسنگ پروگرام متعارف کرائے گا۔
مزید برآں برآمد کنندگان کو تجارتی اور سیاسی خطروں سے بچانے کیلئے کریڈٹ رسک انشورنس اسکیم کو وسعت دینے اور قابل تجدید توانائی کیلئے فنانسنگ اسکیم دوبارہ شروع کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ای کامرس برآمدات کے فروغ کیلئے بیرون ملک گودام قائم کرنے والوں کو بھی مراعات دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کو برآمدی ادائیگی کی مدت 120 دن سے بڑھا کر 180 دن کرنے اور ایم ایس ایم ای کی نئی تعریف ڈالر-روپیہ شرحِ مبادلہ سے منسلک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے حوالے سے پاور ڈویژن کو ہدایت کی گئی ہے کہ براہ راست اور بالواسطہ برآمد کنندگان کو خطے کے مقابلے میں مسابقتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے، جس میں کراس سبسڈیز اور ٹرانسمیشن نقصانات شامل نہ ہوں۔ اس کے علاوہ پالیسی میں پاور سپلائی کی بلا تعطل فراہمی، گرڈ نظام کی بہتری، قابل تجدید توانائی کے فروغ اور سی ٹی بی سی ایم ماڈل کے نفاذ کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی میں اصلاحات بظاہر جامع ہیں، تاہم اُن کا عملی نفاذ ہی آنے والے برسوں میں پاکستان کی برآمدی کارکردگی کا اصل امتحان ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025