خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھارت کے حمایت یافتہ 20 دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر
- یہ کارروائیاں پاکستان کی موجودہ انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہیں، جو وژن "عزم استحکام" کے تحت جاری ہے
پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے 8 اور 9 نومبر کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ انسداد دہشت گردی آپریشنز کے دوران بھارت کی حمایت یافتہ گروپ ”فتنہ الخوارج“ سے تعلق رکھنے والے 20 دہشت گرد ہلاک کیے، یہ اطلاع پیر کو فوج کے میڈیا ونگ نے دی ہے۔
انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق پہلے آپریشن میں شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک خفیہ ٹھکانے کے خلاف کارروائی کی، جس میں آٹھ خوارج ہلاک ہوئے۔
دوسرے آپریشن میں درہ آدم خیل میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید 12 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں باقی دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے صفائی مہم جاری ہے۔
یہ کارروائیاں پاکستان کی جاری انسداد دہشت گردی مہم کے ”عزم استحکام“ کا حصہ ہیں، جسے نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپیکس کمیٹی نے منظور کیا ہے۔
بیان کے مطابق اس مہم کا مقصد پاکستان سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے اور یہ پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔
صدر اور وزیراعظم کی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کی تعریف
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے سیکورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کو سراہا اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور قومی سلامتی کے تئیں عزم کی تعریف کی۔
صدر آصف زرداری نے بھارتی حمایت یافتہ گروپ فتنہ الخوارج اور اس کے سہولت کاروں کو پاکستان کے امن و استحکام کا دشمن قرار دیا اور کہا کہ غیر ملکی حمایت یافتہ شدت پسندوں کے خاتمے کی کارروائیاں قومی اتفاق رائے کے ساتھ جاری ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ سیکورٹی فورسز قوم کے دفاع میں فولادی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم سیکورٹی اہلکاروں کی لگن کو سلام پیش کرتی ہے اور حکومت کی تمام تر دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کی تصدیق کی۔